انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 417
۴۱۷ سورة النحل تفسیر حضرت خلیفتہ المسح الثالث معنی میں نہیں ہوتا جس معنی میں کہ قرآن عظیم نے اس فقرہ کو استعمال کیا ہے تاہم اللہ تعالیٰ کی صفات کے وہ جلوے جن کا تعلق الہی معنیت سے نہیں ہوتا وہ ان لوگوں پر بھی ظاہر ہوتے رہتے ہیں یعنی جو مفهوم إِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوا میں بیان ہوا ہے اس کے ساتھ تعلق نہیں ہوتا مثلاً سورۃ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی جو صفت رب العالمین بتائی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو جو قوی دیئے ہیں۔اس عالمین میں موجود ہر مخلوق کو جو استعداد میں عطا کی ہیں، اُس نے اُن کی ربوبیت کے سامان بھی پیدا کئے ہیں یعنی جہاں تک کھانے کا تعلق ہے، غذا کا تعلق ہے یا گندم اور دوسری اشیا کا تعلق ہے، جیسے ان لوگوں کے لئے زمین پیدا کرتی ہے جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہے ویسے ہی ان لوگوں کے لئے بھی پیدا کرتی ہے جن کے ساتھ قرآن کریم کے ارشاد کے مطابق اللہ نہیں ہے لیکن ایک ایسی دُنیا بھی ہے اور ایک وہ صفات بھی ہیں جو صرف ان لوگوں پر ظاہر ہوتی ہیں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہوتا ہے۔۔۔۔چنانچہ ایک دفعہ پتہ نہیں مجھے کیا سوجھی ( شاید کوئی کہے گا یہ پاگل پن تھا ) میں نے یہ دُعا کی کہ اے خدا! مجھے وہ لذت عطا فرما جس کا تعلق کسی مادی چیز سے نہ ہو مثلاً ایک پیاسا آدمی ہے اس کے لئے گرمیوں کے دنوں میں ٹھنڈا پانی سرور پیدا کرتا ہے پانی ایک مادی چیز ہے اسی طرح ایک بھوکا آدمی ہے اس کو کئی دن کے بعد کھانا ملے تو اسے سرور حاصل ہوتا ہے۔پچھلے سال جب سیلاب آئے تھے تو ہمارے بعض نوجوان ۳۶ ۳۶ گھنٹے بھوکے رہ کر اور اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر اپنے اپنے علاقے کی آبادی کو محفوظ مقامات تک پہنچانے کے لئے کام کرتے رہے۔وہ جب واپس آئے ہوں گے اور اُنہوں نے کھانا کھایا ہو گا تو انہیں کھانے میں غیر معمولی لذت حاصل ہوئی ہوگی۔چنانچہ میں نے یہ دُعا کی کہ اے میرے رب کریم! تیرے قانون کے مطابق مادی اشیا سے سرور حاصل ہوتے ہیں ان کا مشاہدہ کرنے کے لئے میں دُعا نہیں کرتا یہ تو مجھے روز ملتے ہیں۔اے خدا! مجھے ایسی لذت عطا فرما جس کا تعلق مادی طور پر لذت پہنچانے والی اشیا سے نہ ہو۔خدا تعالیٰ کی شان تھی کہ دُعا کرنے پر ابھی ایک گھنٹہ بھی گزرنے نہ پایا تھا کہ میرے جسم کے روئیں روئیں میں ایک ایسی لذت اور سرور پیدا ہوا جس کی کوئی مادی وجہ نہ تھی ، صرف دُعا کی قبولیت تھی۔میں اس غیر معمولی لذت اور سرور کو ۲۴ گھنٹے تک محسوس کرتا رہا یعنی میرا دل بھی اور میرا دماغ بھی میرا جسم بھی اور میری روح بھی اور میرا ذہن بھی اس سے لطف اندوز ہوتا رہا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا