انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 412
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث عدد ۴۱۲ بڑھ گیا شور سورة النحل , فغاں میں نہاں ہم ہو گئے یارِ نہاں میں حکمت کے ایک معنی مَعْرِفَةُ الْمَوْجُودَاتِ وَ فِعْلُ الْخَيْرَاتِ کے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے جو مخلوق پیدا کی ہے اس کا صحیح علم حاصل کرنا اور نیکیاں بجالا نا یعنی نیک کام اور حسن سلوک کرنا۔پس اللہ تعالیٰ یہاں یہ فرماتا ہے کہ ہر ایک مخاطب سے اس کی طبیعت ، ذہنیت اور اس کے علم اور اس کی فراست کے مطابق بات کرو ورنہ وہ سمجھ نہیں سکے گا۔ایک عام آدمی کے سامنے اگر آپ فلسفہ کی بار یک باتیں پیش کریں تو وہ آپ کا منہ دیکھتارہ جائے گا لیکن اس پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔دعوت الی الحق کا یہ مطلب تو نہیں کہ آپ نے اپنی ہمہ دانی کا یا فلسفی ہونے کا اظہار کرنا ہے۔دعوت الی الحق کے یہ معنی ہیں کہ وہ جو راہ سے بھٹکا ہوا ہے سیدھی راہ کی طرف آ جائے اور وہ اس راستہ کو تبھی پہچان سکتا ہے جب جو بات آپ کریں وہ اس کو سمجھنے کے قابل بھی ہو اور یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ صرف بات کا اس کے اوپر اثر نہیں ہوگا بلکہ جو سلوک اور جو برتاؤ تمہارا اس کے ساتھ ہوگا وہ اس پر بہت اثر انداز ہوگا اس لئے بِالْحِكمة نیک سلوک کے ساتھ تم اُسے اپنی طرف کھینچو اور اس کے ذہن اور فراست اور علم کے مطابق قرآنی دلائل اس کے سامنے رکھو تا کہ وہ نور جو اللہ تعالیٰ نے قرآن عظیم میں رکھا ہے اس کے دل پر اثر کرنے اور اُسے روشن کرنے والا ہو جائے۔وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ دنیا میں جب بھی الہی سلسلے جاری کئے جاتے ہیں اس وقت ساتھ ہی ساتھ انذار کا بھی ایک پہلو ہوتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو تمام انبیاء کے سردار اور تمام انبیاء کے حقیقتاً ( معنوی لحاظ سے ) باپ بھی ہیں کیونکہ ہر ایک نے آپ سے فیض حاصل کیا آپ کی کتاب سے فیض حاصل کیا جس کا ایک حصہ ان کو دیا گیا تھا آپ نے دنیا کی محبت میں اور اس فکر میں کہ دنیا اپنے رب کو پہچانتی نہیں اپنی زندگی کے تمام لمحات گزارے لیکن اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق اور عین اس کی وحی کے مطابق آپ نے دنیا کو بہت ڈرایا بھی اس سے نہیں کہ اگر تم میری خدمت نہیں کرو گے تو تباہ ہو جاؤ گے بلکہ اس سے کہ اگر تم اپنے رب کو نہیں پہچا نو گے تو اس کے غضب کا مورد ہو گے اور تباہ ہو جاؤ گے۔(خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۱۱۲ تا ۱۱۵)