انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 407 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 407

تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۴۰۷ سورة النحل وسوسہ ان کو اپنے اندر لپیٹ لیتا ہے اور روحانی شعاعیں دلوں تک پہنچ نہیں سکتیں اور روحانی نورا نہیں حاصل نہیں ہوسکتا۔اس لئے اس اندھے پن کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ سے دور چلے جاتے ہیں۔(خطبات ناصر جلد اول صفحه ۳۹۱، ۳۹۲) مغضوب کے معنی قرآن کریم کی اصطلاح میں یہ ہیں کہ جو شخص انشراح صدر کے ساتھ کفر کو کفر سمجھتے ہوئے قبول کرتا ہے سب سے پہلا انشراح صدر اس سلسلہ میں ابلیس کو ہوا تھا اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں تھی وہ اپنے اللہ کو پہنچانتا تھا، اللہ سے وہ گفتگو کر رہا تھا لیکن کہتا تھا کہ میں کفر کروں گا اور لوگوں کو بھٹکاؤں گا تیرا کہنا نہیں مانوں گا حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اس کی سزا ملے گی خدا نے کہا تھا کہ میں تجھ سے اور تیرے ماننے والوں سے جہنم کو بھر دوں گا لیکن وہ کفر پر قائم رہا غرض مغضوب اس کو کہتے ہیں جو نافرمانی کی راہ سمجھتا ہے جو کفر کے راستہ کو کفر کا راستہ سمجھتا ہے جو جانتا ہے کہ اگر میں نے یہ راہ اختیار کی تو اللہ تعالیٰ کا یقینی غضب مجھ پر نازل ہوگا لیکن کبھی اس کا شیطانی نفس یہ فیصلہ کرتا ہے کہ میں نے اسی راہ کو اختیا ر کرنا ہے اللہ تعالیٰ مغضوب کے اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے سورہ نحل میں فرماتا ہے مَنْ كَفَرَ بِاللهِ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِةَ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَبِنٌ بِالْإِيمَانِ وَلَكِنْ مَنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللَّهِ - اس آیت میں بڑی وضاحت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ غضب اس گروہ یا فرد پر نازل ہوتا ہے جو انشراح صدر سے کفر کے راستہ کو قبول کرتا ہے پس غضب کے نزول کے لئے جو وجہ بنتی ہے وہ جان بوجھ کر خدا تعالیٰ کے غضب اس کی ناراضگی اور اس قہر کے راستوں کو اختیار کرنا ہے کہ اس سے خدا ناراض ہو جائے لیکن پھر جرات کرتا ہے اور خدا کی ناراضگی ،اس کے غضب اور قہر کو مول لیتا ہے۔(خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۲۱۱) آیت ۱۲۶ اُدْعُ إِلى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيلِهِ وَهُوَ اعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ ط قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ نے ایک نور بنایا ہے۔اس کے ماننے والوں کے دلوں میں لمبے اور دور