انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 404
۴۰۴ سورة النحل تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث اس کے بھائی سے ناراض ہو جائے ہم تو ہر وقت استغفار کرتے رہتے ہیں اور اس کی پناہ ڈھونڈتے رہتے ہیں اور جس طرح ہمیں اپنی فکر ہے اسی طرح ہمیں اپنے بھائیوں کی بھی فکر ہے اور ہم ان سے ایسے کام نہیں ہونے دیں گے (جہاں تک ہماری طاقت ہے ) جس کے نتیجہ میں وہ خدا تعالیٰ کو ناراض کرنے والے ہوں۔(خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۳۷۲، ۳۷۳) آیت ۹۰ وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِي كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا عَلَيْهِمْ مِّنْ أَنْفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِيدًا عَلَى هَؤُلَاءِ وَ نَزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ اس وقت میں مختصراً اپنے بھائیوں کو اس آیت کے مضمون کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں جو ابھی میں نے تلاوت کی ہے اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قرآن عظیم نیکی ، تقویٰ اور قرب کی سب راہوں کی طرف ہدایت کرتا ہے جس شخص نے اپنی سب استعدادوں کی کامل تربیت کرنی ہو اور اپنی استعداد کے دائرہ کے اندر زیادہ سے زیادہ قرب الہی کو پانا ہے اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ قرآن کریم کی ہدایات پر عمل کرے۔دوسری بات اللہ تعالیٰ نے اس آیہ کریمہ میں یہ بیان فرمائی ہے کہ ہدایت کے اصول اور ان اصول کی فروع اور شاخوں کے صحیح علم کا حصول رحمت باری پر موقوف ہے اگر چہ قرآن کریم نے ہدایت کی سب راہوں کو منور کیا ہے لیکن اس نور کو دیکھنے کی آنکھ رحمت باری کی طرف سے عطا ہوتی ہے۔تیسری بات اس آیہ کریمہ میں ہمیں یہ بتائی گئی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسے سامان پیدا ہو جائیں کہ تم قرآن کریم کی بتائی ہوئی روشن اور منور راہوں کو سمجھنے لگو تو پھر ایک اور چیز کی ضرورت ہے اور وہ یہ کہ ان راہوں پر چلنے کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بغیر ملتی نہیں اور اللہ تعالیٰ نے چوتھی بات اس آیہ کریمہ میں ہمیں یہ بتائی ہے کہ رحمت کے حصول کے ذرائع بھی قرآن کریم نے ہی ہمیں بتائے ہیں ان ذرائع کے حصول کے لئے قرآن کریم کی طرف توجہ کرو اور قرآنی تعلیم کے مطابق عمل کرو اور جیسا کہ قرآن کریم نے کہا ہے دعاؤں میں لگے رہو اور خود کو نیست محض سمجھو اور سب نور اور سب رحمت کا سر چشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو جانو اور اس سے دعا کرتے رہو کہ وہ ہمارا پیارا