انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 389
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۳۸۹ سورة النحل یہ ہے وَالَّذِيْنَ هَاجَرُوا فِي اللهِ۔اس مضمون پر ہجرت کے معنی پر زیادہ روشنی ڈالی اس لیے کہ آگے آیا تھا الَّذِينَ صَبَرُوا۔یہاں یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ جو شخص صحیح معنی میں ہجرت کرنے والا ہے یعنی ہر چیز خدا کے لیے ترک کرنے کی نیت اور ضرورت کے مطابق ترک کر دینے والا ہے اور جو شخص شہوات کو چھوڑتا ہے اور اخلاق ذمیمہ سے اس طرح دوڑتا ہے جس طرح شیطان لاحول سے دوڑتا ہے اور خطایا اور گناہوں سے وہ بچنے والا ہے تب وہ صبر کرتا ہے۔صبر کے معنی ہیں کہ جو احکام اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان کئے ہیں، جو تعلیم اس نے دی ہے اس کو مضبوطی سے پکڑ لینا۔کچھ ہو جائے خدا کے دامن کو ایک دفعہ پکڑ کے اس کو چھوڑنا نہیں۔اور صبرکا نتیجہ کیا ہوگا؟ یعنی جو خدا تعالیٰ کی تعلیم ہے اس کے نتیجے میں خدا کے سوا اللہ کے مقابل ہر غیر کو چھوڑنا پڑے گا یعنی دوستی اگر خُدا کے مقابلے میں آئے گی دوستی قربان کرنی پڑے گی۔اگر آل و اموال خدا تعالیٰ کے احکام چھوڑ کے ملتے ہوں گے تو مال کو چھوڑنا پڑے گا احکام الہی کو نہیں چھوڑ نا ہوگا وغیرہ وغیرہ۔بہت لمبی تفصیل ہے اور جو شخص ایک، دو، سو، دوسو، ہزار، دو ہزار ، لاکھ، دولاکھ ، چیزیں خدا کے لیے چھوڑ رہا ہے جب تک کوئی سہارا مضبوط اس کے سامنے نہ ہو جس کو اس نے ہاتھ سے پکڑا ہوا ہو یہ قربانی نہیں دے سکتا۔تو فر ما یا الَّذِينَ صَبَرُوا وَ عَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ یہ صبر کرتے ہیں اس لیے کہ خدا پر ان کا تو گل ہے۔جو خدا پر توکل کرتے ہیں حسبنا اللہ اللہ ہمارے لیے کافی ہے اور جن کے لیے اللہ کافی ہے اللہ اپنے نشان اور پیار کا اظہار اس طریقے پہ کرتا ہے کہ ہماری عقلیں جو پیار وصول کرنے والی ہیں دنگ رہی جاتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔یہاں یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ صبر کر و استقامت کے ساتھ ، مضبوطی کے ساتھ ، وفا کے ساتھ ، جاشاری کے ساتھ ، قرآن کریم کی شریعت اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کو پکڑو اور آپ کے اسوہ پر چلو وَ عَلى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ایسے لوگ خدا تعالیٰ پر کام تو کل صحیح تو گل ، پورا توکل کرنے کے بعد ہی صبر کر سکتے ہیں یعنی یہ کہ ہر چیز چھوڑ دیں خدا کے لئے۔صبر نہیں کر سکتے جب تک ہر چیز خدا سے پانے اور اس کی بشارتیں اپنی زندگی میں پورا ہونے پر کامل یقین نہ رکھیں۔اس مضمون کے لحاظ سے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اس کا ترجمہ اپنی تفسیر میں یہ کیا ہے۔جو ظلموں کا نشانہ بن کر بھی ثابت قدم رہے ہجرت میں آ گیا تھا نا ظلم۔شہر چھوڑا۔خاندان چھوڑا، وو 66