انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 390
۳۹۰ سورة النحل تفسیر حضرت خلیفۃ المسح الثالث اموال چھوڑے، حویلیاں چھوڑیں، چھوڑ ہی دیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری عمر جو کیا آپ کی عظمتوں کا وہ نشان ہے اور جو فتح مکہ کے روز کیا ، عظمتوں کا وہ نشان بڑاہی بلند ہو گیا۔ایک لا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللهُ لَكُمْ کہ تم سب کو میں نے معاف کر دیا۔دعا کرتا ہوں کہ اللہ بھی تمہیں معاف کر دے اور دوسرے وہ مہاجر جن کی بڑی بڑی حویلیاں شاید ان میں اتنی بڑی بھی ہوں گی جو یہاں بھی ملنی مشکل ہیں پرانے طریق کی بڑی مضبوط بنی ہوئی حویلیاں تھیں۔بڑے ریکس تھے۔رؤسائے مکہ بڑے امیر تھے۔ان میں سے جو مسلمان ہوئے سب کچھ چھوڑ کے مدینہ آئے تھے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ وسلم نے یہ سوچا ہوگا کہ اگر میں نے ذرا سا بھی یہ اشارہ کیا کہ اب تم سب کچھ واپس لے سکتے ہو تو یہاں تو بڑا فساد پیدا ہو جائے گا۔آپ نے کہا میں جا رہا ہوں واپس مدینہ اس میں ایک اور بھی حکمت ہے اور وہ یہ کہ جس دن حویلیاں چھوڑ کے مدینہ چلے گئے تھے، کوئی سکتا تھا مجبوری تھی اور کیا کرتے۔جس دن رہ سکتے تھے وہاں نہیں رہائش اختیار کی اور چھوڑ کے چلے گئے۔کوئی نہیں کہ سکتا تھا کوئی مجبوری تھی خدا کے لیے چھوڑ دیا تھا پھر واپس نہیں لیا۔ساری جائیدادیں وہیں چھوڑ کے مہاجرین کو لے کے واپس چلے گئے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ( وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ کی دراصل وہ تشریح ہے کچھ آیتیں بیچ میں مضمون کی اور حصے تھے وہ میں نے چھوڑ دیتے ہیں۔) آفَا مِنَ الَّذِينَ مَكَرُوا السَّيَاتِ اَنْ يَخْسِفَ اللهُ بِهِمُ الْاَرْضَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لا يَشْعُرُونَ انہوں نے خدا پر توکل کیا ہے۔خدا کہتا ہے یہ میرے پر تو گل کر کے میری ہر بات مان رہے ہیں۔میرے لیے اپنی ہر چیز قربان کر رہے ہیں پھر کیا جو لوگ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کے خلاف تدبیریں کرتے چلے آرہے ہیں، انہیں امن کی گارنٹی کس نے دی ہے کہ اللہ انہیں اس ملک میں ہی ذلیل نہیں کرے گا اور رسوا نہیں کرے گا اور جس عذاب کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا وہ عذاب ان پر نہیں آئے گا۔سب کچھ ہو گیا۔جس دن آپ نے یہ کہا کہ تمہارے جن گھروں کے مکینوں نے مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہمارے گھروں سے نکالا تھا، ان مکانوں کو میں کہتا ہوں جو تمہارے اندر چلے جائیں گے وہ امن میں آجائیں گے۔میں نے بتایا نا وہ دن بڑی عظمتوں کے بڑی رفعتوں کے اظہار کا دن تھا۔ہم سب کو عقل دی