انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 384
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۳۸۴ ایک قسم کی آزمائش خدا تعالیٰ کے احکام اور شیطانی وساوس کے ذریعہ سے ہوتی ہے۔سورة النحل خطبات ناصر جلد اول صفحه ۲۱۵ تا ۲۱۷) شریعت محمدیہ پر ایمان لانے والے کو (اگر وہ اس پر کار بند ہوتا ہے ) اشم کا کوئی خطرہ نہیں رہتا اس لئے کہ یہ شریعت کامل اور مکمل ہے۔اس لئے کہ یہ شریعت خیر محض ہے۔قرآن کریم کے ایک لفظ خیرا “ میں شریعت محمدیہ کی حقیقت بیان کی گئی ہے۔قرآن کریم میں آتا ہے مَا ذَا انْزَلَ رَبُّكُمْ ط قَالُوا خَيْرًا شریعت محمدیہ بھلائی ہی بھلائی ہے اس واسطے اثمد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا پھر انسان کی فطرت بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے اور انسانی فطرت کو نیک اور بد میں تمیز کرنے کی توفیق بھی اُسی نے عطا فرمائی ہے۔انسانی فطرت (اور اس سے میری مراد وہ فطرت ہے جو مسخ نہ ہو چکی ہو ) کسی چیز کو بد قرار نہیں دے گی جسے شریعت محمدیہ نے برقرار نہ دیا ہو اور انسانی فطرت کسی چیز کو نیکی اور بھلائی اور ثواب کا موجب قرار نہیں دے گی کہ جس کا حکم شریعت محمد یہ میں نہ ہو کیونکہ خود قرآن کریم فرماتا ہے فطرتَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ( الروم : ۳۱) خدا تعالیٰ نے انسانی فطرت کو پیدا کیا ہے یہ اس کا عمل ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو ایک کامل شریعت کے رنگ میں اپنی وحی کے ذریعہ حمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا ہے امور یہ اس کا قول ہے اور اللہ تعالیٰ کے فعل اور اس کے قول میں تضاد نہیں ہوا کرتا۔(خطبات ناصر جلد سوم صفحه ۵۰۱،۵۰۰) آیت ۴۲ تا ۴۸ وَالَّذِينَ هَاجَرُوا فِي اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا لَنُبَوثَنَّهُمْ في الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ لَأَجْرُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الَّذِينَ صَبَرُوا وَ عَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ آفَا مِنَ الَّذِينَ مَكَرُوا السَّيَاتِ اَنْ يَخْسِفَ اللَّهُ بِهِمُ الْأَرْضَ اَوْ يَأْتِيَهُمُ لا الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ أَوْ يَأْخُذَهُم فِي تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُمْ بِمُعْجِزِينَ اَوْ يَأْخُذَهُم عَلَى تَخَونِ فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ ) اور جن لوگوں نے اس کے بعد کہ ان پر ظلم کیا گیا اللہ کے لیے ہجرت اختیار کی، انہیں ضرور دنیا میں