انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 385 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 385

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۸۵ سورة النحل اچھا مقام دیں گے اور آخرت کا اجر تو اور بھی بڑا ہو گا۔کاش یہ منکر اس حقیقت کو جانتے۔جوظلموں کا نشانہ بن کر بھی ثابت قدم رہے (ہجرت کرنے والے) اور جو ہمیشہ ہی اپنے ربّ پر بھر وسہ کرتے ہیں۔پھر کیا جو لوگ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اور اسلام کے خلاف تدبیریں کرتے چلے آئے ہیں اور اس بات سے امن میں ہیں کہ اللہ انہیں اس ملک میں ہی ذلیل اور رسوا کر دے یا موعودہ عذاب ان پر اس راستے سے آ جائے جس کو وہ جانتے ہی نہ ہوں۔یا وہ انہیں ان کے سفروں میں ( دوسری جگہ آیا ہے۔وہ دوڑتے پھرتے ہیں دنیا میں ، اسلام کو نا کام اور کمزور کرنے کے لئے ) تباہ کر دے۔پس وہ یادرکھیں کہ وہ ہرگز اللہ کو ان باتوں کے پورا کرنے سے عاجز نہ پائیں گے۔(جو بشارتیں یہاں مومنوں کو دی گئی ہیں۔ان باتوں کے پورا کرنے سے عاجز نہ پائیں گے ) یا وہ انہیں پہلے کہا تھا ہلاک کر دے اللہ ) آہستہ آہستہ گھٹا کر ہلاک کر دے کیونکہ تمہارا رب یقینا مومنوں پر بہت ہی شفقت کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔ان آیات میں ان ہجرت کرنے والوں کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کو اختیار کرتے ہیں اور اس ہجرت کو وہ اختیار کرتے ہیں اُس وقت جب ان پر ظلم کی انتہا ہو چکی ہوتی ہے۔اس وقت بھی وہ ہجرت کو اختیار کر رہے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے یہاں بشارت دی کہ لَنُبَونَنَّهُمْ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً دنیا میں بھی اچھا مقام دیں گے۔دنیوی حسنات دیں گے جس کے لئے دعا سکھائی رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً (البقرة : ٢٠٢) وَلَاَجُرُ الْآخِرَةِ اكبر اور آخرت کا اجر اس دنیا کے اجر کے مقابلے میں بہت بڑا ہے۔کاش اس حقیقت کو یہ منکر سمجھتے اور اپنی بدتد بیروں سے باز آ جاتے۔ہجرت ، جیسا کہ ابھی حال ہی میں ماضی قریب میں میں نے ایک خطبے میں بتایا تھا ، عربی معنے کے لحاظ سے اور قرآنی اصطلاح کی رُو سے تین باتیں ، تین پہلو اپنے اندر رکھتی ہے۔ہجرت کے لفظی معنی تو عربی میں ہیں قطع تعلق کرنا اور چھوڑ دینا اور ہجرت کا ایک پہلو یہ ہے کہ ہجرت مکانی یعنی اپنی رہائش کی جگہ کو چھوڑنا۔بڑی زبر دست قربانی ہے اپنے عزیزوں کو چھوڑنا، اپنے دوستوں کو چھوڑنا، اپنے تعلقات کو چھوڑنا، اپنے اموال کو چھوڑ نا خدا اور رسول کے لئے اور اس جگہ چلے جانا اس زندگی کو (جو اس وقت میرا مضمون ہے۔میں یہ فقرہ اس کے لئے زائد کر رہا ہوں ) ترک کر دینا جس زندگی کو ترک کرنے کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے موعودہ انعامات کے وہ وارث بن سکتے ہیں۔مفردات راغب نے ہجرت کے