انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 380 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 380

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۳۸۰ سورة الحجر نے تم پر نعمتوں کی انتہا کردی ہے۔بے شمار نعمتیں تمہارے لئے پیدا کی ہیں لیکن جب تک تم خودان نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کرو گے ان سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے اور تم اپنے زور سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے تمہاری کوششیں اور تمہاری تدبیریں بے نتیجہ ہیں جب تک خدا تعالیٰ کی مغفرت اور اس کی رحیمیت تمہارے شامل حال نہ ہو اور تمہاری تدبیر کی کوتاہیوں کمزوریوں کو اس کی مغفرت کی چادر ڈھانپ نہ لے اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے تمہاری کوششوں کا نتیجہ نہ نکالے۔یہی اعلان پہلی آیت میں ہے کہ نبی عِبَادِي إِنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ لوگوں کو بتاؤ کہ غفور اور رحیم میں ہی ہوں اور جس دائرہ کے اندر تم صاحب اختیار ہو اگر اس دائرہ میں تم اپنی فلاح اور بہبود چاہتے ہو، اگر اس دائرہ میں تم خدا تعالیٰ کی رحمتوں سے حصہ لینا چاہتے ہو، اس کی رضا پانا چاہتے ہو اور اس کی جنتوں میں داخل ہونا چاہتے ہو تو غفور اور رحیم خدا سے تعلق پیدا کرو اور ان صفات کا واسطہ دے کر اس سے دعائیں کرو کیونکہ اس کے بغیر انسان کی کوشش بے نتیجہ رہ جاتی ہے اور بے ثمر ہو جاتی ہے۔یہ جو میں نے کہا ہے کہ خدا تعالیٰ کی رحیمیت اور اس کی مغفرت سے مدد حاصل کرو۔اس کے متعلق خدا تعالیٰ نے فرمایا: - قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ (الفرقان : ۷۸) کہ اگر تم دعا کے ذریعے خدا تعالیٰ کی مغفرت اور رحیمیت اور خدا تعالیٰ کی دوسری صفات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کرو گے تو پھر خدا تعالیٰ تمہاری کیا پرواہ کرے گا۔دعا ہی ہے جو خدا تعالیٰ کی رحمتوں کو جذب کرتی ہے۔اگر تم بندہ ہونے کے باوجود اس سے دعا نہیں کرو گے اور اس کی پرواہ نہیں کرو گے تو وہ تو غنی اور حمید ہے وہ غنی ہوتے ہوئے تمہاری کیا پرواہ کرے گا اس کو تو تمہاری حاجت نہیں تمہیں اس کی احتیاج ہے۔(خطبات ناصر جلد ہفتم صفحه ۲۵۹،۲۵۸)