انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 379
۳۷۹ سورة الحجر تفسیر حضرت خلیفتہ امسح الثالث یعنی جس پر شیطان کامیاب وار کر دے اور اس کے دل میں وسوسہ ڈالے اور وہ دل وسوسہ سے متاثر ہو جائے اور امتحان میں پڑ جائے۔اسی طرح وہ شخص جسے خدا اور اس کے رسول کی خاطر قربانیاں دینے میں تھکاوٹ محسوس ہو۔اسی طرح وہ شخص جو دوسرے بھائی پر جواللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہو رہی ہوں ( دنیوی یا دینی ) انہیں دیکھ کے جلنے لگے اور حسد اختیار کرے اور اس کی یہ کیفیت نہ ہو کہ عَلى سُرُرٍ متقبِلِينَ۔اسی طرح وہ شخص جو اخوت کا انتہائی جذ بہ اپنے بھائیوں کے لئے اپنے دل میں نہیں پاتا۔اسی طرح وہ شخص جس کے دل میں دوسروں کے لئے کینہ پایا جاتا ہے۔اسی طرح وہ شخص جو اپنے بھائیوں کے لئے سلامتی اور امن کی دعائیں نہیں کرتا وہ خطرے میں ہے اسے اپنی فکر کرنی چاہیے کیونکہ وہ ابھی تک اندھا ہے اور اسے روحانی آنکھیں عطا نہیں ہو ئیں تو اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ایک نقشہ کھینچا ہے اس دنیا کی جنت کا بھی اس جنت کا بھی نقشہ اس کے اندر ہے لیکن وہ علیحدہ مضمون ہے ) اور ہمیں اس طرف متوجہ کیا ہے کہ جب تمہارے لئے جنت اس دنیا میں مقدر ہو جائے گی تمہاری لیلتہ القدر کا فیصلہ ہو جائے گا۔اس وقت تم یہ محسوس کرو گے کہ تمہارے اندر یہ خوبیاں یہ صفات جو ہیں وہ پیدا ہو چکی ہیں اور ان صفات کو ایک لحظہ کے لئے بھی چھوڑنے کے لئے تم تیار نہیں ہو۔اگر ایسا نہیں تو پھر ابھی تمہیں بینائی نہیں ملی۔ابھی تمہاری آنکھیں نہیں کھلیں ابھی تمہاری لیلۃ القدر کا فیصلہ نہیں ہوا ابھی تم خطرے میں ہو، ابھی شیطان کا وار تم پر کامیاب ہے پس دعاؤں کے ذریعہ بھی، تدبیر کے ذریعہ بھی اور اعمال صالحہ کے ذریعہ اور عاجزی اور تذلل کے ذریعہ شیطان کے حملہ سے خود کو محفوظ کرنے کی خاطر اپنے رب کی طرف جھکو اور انتہائی قربانی دے کر بھی اس سے یہ چاہو کہ وہ تمہیں جنتٍ وَعُيُونٍ میں داخل کر دے اس دنیا میں بھی تا کہ امن کے ساتھ تم اپنی زندگی کو گزارنے والے ہو۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا کرے۔(خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۱۴ تا ۱۶) خدا تعالیٰ اس کائنات کا قیوم ہے اس کے سہارے کے بغیر کوئی چیز قائم نہیں رہ سکتی اور ہمیں یہ کہا گیا ہے کہ اس کے سہارے کو ڈھونڈیں۔فرمایا نبی عِبادِی اَنِّی أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ لوگوں کو یہ بتا دو کہ میں غفور اور رحیم ہوں اور دوسری جگہ فرمایا وَاِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا إِنَّ اللَّهَ لَغَفُورٌ رَّحِيمُ (النحل : ۱۹) غفور اور رحیم جو دو صفات باری ہیں اس آیت میں ان کی تفسیر کی ہے کہ خدا تعالیٰ