انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 376
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث سورة الحجر آپ کو انسانیت کا کمال حاصل ہوا۔غرض ہمارے پاس وہ الفاظ نہیں جن سے آپ کی علو شان کا اظہار کر سکیں۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دیکھو میں نے تمہیں پیدا کیا تمہیں بے شمار قابلیتیں عطا کیں۔تمہارے اندر جسمانی قابلیتیں رکھیں۔تمہارے اندر ذہنی قابلیتیں رکھیں۔پھر تمہارے اندر اخلاقی قابلیتیں رکھیں تمہارے اندر روحانی قابلیتیں رکھیں اور ان قابلیتوں کی صحیح نشو و نما کے لئے میں نے ہر موزوں چیز پیدا کر دی اگر تم چاہو تو تم اس سے فائدہ اُٹھا کر صحیح راہوں پر چل کر اپنی انفرادیت کی نشوونما کو اس کے کمال تک پہنچا سکتے ہو کیونکہ میں نے ہر چیز کو موزوں شکل میں پیدا کیا ہے۔ایک موٹی مثال اس موزونیت کی افیون ہے۔انسان کی بیماریوں کو دُور کرنے کے بھی اس میں اللہ تعالیٰ نے سامان پیدا کئے ہیں۔چنانچہ طب یونانی میں افیون کو بڑی کثرت سے دواؤں میں استعمال کیا گیا ہے۔ایک عام اندازہ کے مطابق ۷۵ یا ۸۰ فیصد نسخوں میں افیون ضرور شامل ہوتی ہے لیکن وہ ہر دوائی کا جزو بنتی ہے اپنی قدرتی اور طبعی اور موزوں شکل میں۔اسی لئے طب یونانی کی تاریخ میں کبھی ایسا واقعہ رونما نہیں ہوا کہ طب یونانی کے نسخوں کے استعمال کے نتیجہ میں کسی فرد واحد کو افیون کھانے کی عادت پڑ گئی ہو کیونکہ ہر ایسے نسخہ میں خدا کے قانون کی روشنی میں تجربہ کر کے اس کی مقدار موزوں اندازے کے مطابق رکھی جاتی ہے لیکن اس کا غلط استعمال بھی ہونے لگا۔چنانچہ اس کے بعض اجزا کے اگر کسی شخص کو دو شیکے کر دیئے جائیں تو اس کو افیون کی عادت پڑ جاتی ہے اور ادھر وہ دواؤں کی شکل میں موزوں مقدار میں ساری عمر کھا تارہے تو پھر بھی اس کی عادت نہیں پڑتی۔پس اللہ تعالیٰ نے انسان کی نسبت سے یعنی انفرادی طور پر جس جس قسم کے توازن کی ضرورت تھی اس اس شکل میں اُسے پیدا کیا۔پھر ایک نوعی توازن قائم کیا جو مثلاً اجناس کے اندر کارفرما ہے۔اسی طرح تمام پھلوں اور کھانے پینے کی اشیاء میں توازن قائم ہے اور یہ زمین ہے جس میں یہ موزونیت یہ میزان کا عمل دخل نظر آتا ہے۔قرآن کریم اسے کہے گا کہ انسان کے قومی اور اس کی قابلیتوں کی صحیح اور بہترین نشو و نما کے لئے جس غذا کی جس شکل میں جس موزوں حالت میں اور جس متوازن صورت میں ضرورت تھی یہ اس زمین میں پائی جاتی ہے۔غرض جس مجموعہ آثار الصفات میں موزوں غذا پائی جاتی ہے وہ زمین ٹھہری۔خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۸۳۸ تا ۸۴۰)