انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 377 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 377

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۳۷۷ سورة الحجر آیت ۴۶ تا ۵۱ إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنْتٍ وَعُيُونٍ أَدْخُلُوهَا بِسَلِمٍ أَمِنِينَ وَ نَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍ اِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُّتَقْبِلِينَ لَا يَمَسُّهُم فِيهَا نَصَبٌ وَ مَا هُمْ مِنْهَا بِمُخْرَجِينَ نَبِى عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ) وَانَّ عَذَابِى هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی وضاحت کے ساتھ اپنی کتب میں اس مسئلہ کو بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مقرب مومن بندوں کو جنہیں وہ اپنی مغفرت کی چادر کے اندر ڈھانپ لیتا ہے دو جنتوں کے لئے پیدا کیا ہے۔ایک جنت اس دنیا میں ان کے لئے مقدر کی جاتی ہے اور ایک وہ جنت ہے جو اُخروی زندگی میں انہیں ملے گی جیسا کہ قرآن کریم میں یہ آتا ہے کہ جو شخص اس دنیا میں روحانی طور پر اندھا ہو اور بصیرت اسے حاصل نہ ہو۔وہ اُخروی زندگی میں بھی اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کے قابل نہیں ہوگا اور نہ اس کی رضا کی جنتوں میں وہ داخل کیا جائے گا۔ان آیات میں جو میں نے ابھی آپ دوستوں کے سامنے تلاوت کی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ایک وسیع مضمون بیان کیا ہے۔اس کا ایک حصہ یہ ہے کہ اس دنیا کی جنت جو اس دنیا کی جنت سے بہت مختلف ہے(اس میں شک نہیں ایک بڑا فرق تو یہ ہے کہ وہ جنت ایسی ہوگی جس میں سارے جنتی اکٹھے رہتے ہوں گے اور دوزخیوں کا اس جنت میں کوئی دخل نہیں لیکن اس دنیا میں جو جنت ہے ) اس میں کا فراور مومن اس دنیا کے لحاظ سے اکٹھے رہتے نظر آتے ہیں۔پس ہر شخص کی اپنی ایک جنت ہے۔ایک ماحول ہے یا جماعت کا ایک ماحول ہے۔اس ماحول میں جنتیوں کی سی زندگی ایک احمدی گزارتا ہے یا جنتیوں کی سی زندگی گزارنے کی وہ کوشش کرتا ہے۔اس جنت کی بہت سی علامات ان آیات میں بتائی گئی ہیں :۔(۱) ایک تو یہ کہ امن میں اور سلامتی کے ساتھ وہ رہنے والے ہوں گے۔جس کے ایک معنی یہ ہیں کہ وہ ایک دوسرے کیلئے کثرت سے سلامتی سے دعائیں کر رہے ہوں گے۔اس کا ایک ظاہری طریق یہ بھی ہے سنت نبوی کے مطابق اور وہ یہ کہ جب بھی مسلمان مسلمان سے ملے۔السّلامُ عَلَيْكُمْ