انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 370
۳۷۰ ورة الحجر تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ہے حالانکہ انسانی عقل اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے ایک خلق ہے اور قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے ایک کامل ، اور قیامت تک رہنے والا کلام ہے اس لئے عقل اور کلام الہی کے درمیان تضاد ہو ہی نہیں سکتا۔لیکن لوگوں کی طرف سے ان دونوں کے اندر تضاد ثابت کرنے کی کوشش کی گئی اور بڑی زبر دست کوشش کی گئی۔اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:۔تیسرے متکلمین کے ذریعہ سے جنہوں نے قرآنی تعلیمات کو عقل کے ساتھ تطبیق دے کر خدا کی پاک کلام کو کو نہ اندیش فلسفیوں کے استخفاف سے بچایا ہے۔(ایام الصلح۔روحانی خزائن جلد نمبر ۱۴ صفحه ۲۸۸) لوگوں نے اپنی کو نہ اندیشی کے نتیجہ میں فلسفہ، منطق اور دوسرے علوم کی رو سے جونتائج نکالے انکی بنا پر قرآن کریم کی تعلیمات پر مختلف اعتراض کئے مثلاً پادریوں نے ایک زمانہ میں یہ اعتراض کر دیا کہ قرآن کریم نے کہا ہے کہ شہد کی مکھی کے اندر سے ایک پینے والی چیز یعنی شہر نکلتا ہے اور اس میں شفا کی بہت سی خصوصیات پائی جاتی ہیں حالانکہ کبھی پھولوں کے رس سے شہد بناتی ہے اس کے اندر سے تو شہر نہیں نکلتا۔یہ اعتراض در اصل غفلت اور عدم علم کا نتیجہ تھا۔بعد میں جب مکھی اور اسکے شہد بنانے پر تفصیلی تحقیق ہوئی تو ہمیں دو چیزوں کا پتہ لگا۔ایک یہ کہ کبھی پھولوں سے جو رس لاتی ہے وہ شہد کی شکل میں نہیں ہوتا۔وہ تو ایک پانی کی شکل میں مائع سی چیز ہوتی ہے شیرے کے قوام کی طرح اسکے اندر شہد کا قوام نہیں ہوتا لیکھی پھولوں کا رس لا کر اس میں دو چیزیں اپنی کوشش سے زائد کرتی ہے۔اس کی ایک کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ اس مائع کو گاڑھا قوام بنائے۔چونکہ پھولوں کے رس میں پانی کی فیصد زیادہ ہوتی ہے اس لئے اس کے ایک ایک ذرہ کو خشک کرنے کے لئے اسے کئی سو میل حرکت کرنی پڑتی ہے۔زبان کو اندر باہر لیجا کر اور بڑی محنت کرنی پڑتی ہے تب جا کر مائع قوام بنتا ہے اور پھر یہیں پر بس نہیں ہوتی بلکہ اپنے جسم میں سے وہ مختلف غدود کے رس سے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کاملہ سے لکھی میں پیدا کر رکھا ہے اور جن میں شہر کے قریباً نصف اور ضروری حصے پائے جاتے ہیں وہ شہد میں شامل کرتی ہے گویا شہد میں پچاس فیصد حصہ کبھی کے اپنے غدود کے رس کا ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی حکمت کا ملہ کے نتیجہ میں شہد میں شامل کر دیا جاتا ہے۔بسا اوقات ہمارے ہاں دودھ میں ۹۵ فیصد پانی ہوتا ہے۔بایں ہمہ لوگ اسے دودھ ہی کہتے ہیں تو شہد میں جبکہ پچاس فیصد سے زیادہ شہد کی مکھی