انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 367
تفسیر حضرت خلیفۃ المسح الثالث اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۳۶۷ سورة الحجر بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الحجر آیت ۱۰ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ قرآن کریم ایک کامل ہدایت اور ابدی شریعت کی شکل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا۔پہلی الہامی کتب چونکہ مختلف ملکوں اور مختلف زمانوں میں خاص قوموں کی ہدایت کے لئے نازل ہوئی تھیں اسلئے ان کے لئے ابدی حفاظت کا وعدہ نہیں تھا لیکن قرآن کریم نے چونکہ قیامت تک کے انسان کی رشد و ہدایت کا ذریعہ بنا تھا اور انسان کی رُوحانی تشنگی دور کرنے اور اس کی دنیوی علمی ضروریات کو پورا کرنے کے سامان پیدا کرنے تھے اور پھر چونکہ شیطان نے بھی اپنا پورا زور لگانا تھا کہ وہ اس تعلیم کو اگر مثانہ سکے تو تحریف کے طور پر اس میں کسی نہ کسی شکل میں کوئی نہ کوئی رخنہ پیدا کر دے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس آیہ کریمہ میں جس کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے ہمیں یہ تسلی دی ہے کہ اس نے قرآن کریم کی حفاظت لفظی اور حفاظت معنوی کے سامان پیدا کر دیئے ہیں۔اب کوئی شیطانی طاقت یا کوئی منصوبہ قرآن کریم میں تحریف لفظی یا معنوی میں کامیاب نہیں ہوگا۔۔۔۔۔جہاں تک انسان کی طاقتوں کا تعلق ہے وہ بھی انسان کو اسی لئے عطا کی گئی ہیں کہ ان کے ذریعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی غرض پوری ہو۔ان قوتوں میں سے ایک قوت، قوت حافظہ ہے جو انسان میں ودیعت کی گئی ہے۔خود انسان کو اس قوت سے فائدہ اٹھانے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔بہت سے لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔وہ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔مختلف مشاہدے کرتے ہیں اور پھر قوت حافظہ کے ذریعہ اپنے ذہن میں انہیں حاضر رکھتے ہیں۔پس قوت حافظہ کے دنیوی لحاظ سے بھی بہت سے فوائد ہیں اور اخلاقی و روحانی لحاظ سے بھی بہت سے فوائد ہیں لیکن قوت حافظہ کی اصل غرض یا قوت حافظہ کی پیدائش کا اصل مقصد یہ تھا کہ خدا تعالیٰ قرآن عظیم کو تحریف لفظی سے بچائے گویا