انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 362 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 362

۳۶۲ سورة ابراهيم تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث لو کیونکہ اس دن تم سے کچھ نہیں ہو سکے گا اور تمہارا بچاؤ اس چیز میں ہے کہ قرآن کریم کی شریعت کو قائم کرو۔تمہارا بچاؤ اس چیز میں ہے کہ خدا تعالیٰ کی عطا کو اس کی رضا کے حصول کے لئے خرچ کرو اور جب تم اپنے بھائیوں کے ساتھ حسن سلوک اور بھائیوں والا سلوک کرو تو اس بات کا خیال رکھو کہ جس چیز کی انہیں زیادہ ضرورت ہے وہ چیز انہیں پہلے دی جائے۔خطبات ناصر جلد اول صفحه ۵۶۴ تا ۵۶۸) یعنی میرے ان بندوں کو جو ایمان لائے ہیں یا ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں کہہ دو کہ (نمازوں کو قائم کریں اور ) ہم نے انہیں بہت کچھ دیا ہے اور ہم نے جو بھی انہیں دیا ہے اس میں سے وہ ہماری راہ میں سرا وَ عَلَانِيَةً یعنی پوشیدگی میں بھی اور ظاہر میں بھی خرچ کریں اس مِنًا رَزَقْنهُمْ میں جیسا کہ احمدیوں کے سامنے یہ چیز بار بار آتی ہے صرف امول کی طرف ہی اشارہ نہیں بلکہ اوقات بھی اسی میں آجاتے ہیں استعدادیں بھی اس میں آجاتی ہیں اموال بھی اس میں آجانے چاہئے وہ غیر منقولہ ہوں یا منقولہ غرض اللہ تعالیٰ کی ہر عطا اس میں آجاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا کوئی شمار نہیں بہر حال اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے تمہیں بہت کچھ دیا ہے اور جو بھی ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے کچھ ہماری راہ میں میرا یعنی خفیہ طور پر اور پوشیدگی میں خرچ کرو اور کچھ علانیہ یعنی ظاہر طور پر خرچ کیا کرو اور خرچ کی بہت سی راہیں ہیں اور ان میں سے مختلف راہوں کی طرف ہم احباب جماعت کو بار بار توجہ دلاتے رہتے ہیں۔(خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۴۱۱) آیت ۳۵ وَاتْكُم مِّنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ وَ اِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لا تُحْصُوهَا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارُ اللہ تعالیٰ نے اصولی طور پر اس وسیع مضمون کو اس صورت میں بیان فرمایا ہے کہ انسان اشرف المخلوقات کی حیثیت میں پیدا کیا گیا ہے اور ہر دوسری مخلوق کو اس کی خدمت پر لگا دیا گیا ہے لیکن اس میں اس سوال کا جواب نہیں آتا تھا کہ ہمیں جتنے خادم درکار تھے وہ دیئے گئے ہیں یا نہیں۔یعنی جو چیز ہمیں میسر آئی ہے وہ تو بہر حال خادم ہے لیکن ہماری ساری ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے جتنے خادم چاہیے تھے آیا وہ ہمیں ملے ہیں یا نہیں اس کا جواب اس فقرہ میں نہیں آتا۔پس اللہ تعالیٰ نے واشكُم مِّنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ کہہ کر یہ تسلی بخش جواب دیا کہ تمہاری ساری قابلیتوں اور طاقتوں اور اجزا اور جوارح نے جس جس چیز کا مطالبہ کیا تھا وہ