انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 358
۳۵۸ سورة ابراهيم تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث شاخیں پھوٹتی ہیں جو اعتقادات صحیحہ ہیں یعنی انسان کے اعتقادات شاخوں کی شکل اختیار کرتے ہیں (تمثیلی زبان میں) جو اوامر ونواہی پر مشتمل ہے اور یہ وہ درخت ہے جس کی ہر شاخ آسمان پر جانے والی ہے اعمال صالحہ کے پانی سے پرورش پانے کی وجہ سے یعنی کوئی بدی والا حصہ اس کے اندر نہیں ہر شاخ جو ہے وہ صحت مند اور نشونما پانے والی ہے اور آسمانوں تک پہنچتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا ہے کہ جب تقویٰ کی جڑ مضبوط ہو اور اس جڑ سے نیکی کی اور پاکیزگی کی اور صلاح کی شاخیں نکلیں تو وہ شاخیں نہ صرف یہ کہ خدا تعالیٰ کے قرب کو حاصل کرتی ہیں اور روحانی بلندیوں تک پہنچتی ہیں بلکہ اس دنیا میں بھی (اُخروی زندگی میں تو ہوگا یہی ) ان شاخوں کو تازہ بتازہ پھل لگتا رہتا ہے جس سے انسان فائدہ حاصل کرتا ہے یعنی اس دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کی رضاء انسان کو حاصل ہو جاتی ہے اور روح کو ہر لحظہ ایک لذت اور سرور حاصل ہوتا رہتا ہے ان پھلوں کے کھانے سے جن کا کھانا روحانی طور پر ہے لیکن جب تک وہ پھل نہ ملیں وہ خوش حالی حاصل نہیں ہو سکتی ، وہ لذت اور سرور حاصل نہیں ہوسکتا وہ پھل مل نہیں سکتے جب تک اعتقادات جو ہیں وہ صحیح نہ ہوں اور اعمال صالحہ ان کو سیراب نہ کریں اور تقویٰ کی جڑ سے نکل کر آسمانوں تک نہ پہنچیں۔اسی صورت میں اللہ تعالیٰ انہیں قبول کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا ہمارے کسی فعل کو قبول کر لینا ہی اس کا پھل ہے کیونکہ اس کے نتیجہ میں انسان کو اس کی رضا حاصل ہوتی ہے۔پس ہر ایک نیکی کی جڑ یہ اتقاء ہے۔جو شخص تقویٰ کی جڑ تو نہیں رکھتا لیکن بظاہر ہزار قسم کی نیکیاں بجالاتا ہے اسے فائدہ ہی کیا کیونکہ اس سے وہ شاخیں نہیں پھوٹ سکتیں جو خدائے رحمن تک پہنچتی ہیں نہ وہ پھل لگ سکتے ہیں جو پھل کہ دوسری صورت میں ان شاخوں کو لگا کرتے ہیں اور روحانی سیری کا موجب بنتے ہیں۔( خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۶۹،۶۸) آیت ۳۲ قُلْ لِعِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا يُقِيمُوا الصَّلوةَ وَيُنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَهُمْ سِرًّا وَ عَلَانِيَةً مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمَ لَا بَيْعَ فِيْهِ وَلَا خِلكَ یہ آیت قرآنیہ جو میں نے اس وقت پڑھی ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان کیا ہے کہ ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ جب تمہارے تکبر، تمہارے فخر، تمہاری مبابات، تمہاری ریا، تمہارے نفاق، تمہاری