انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 347
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۴۷ سورة الرعد رضا کی طلب میں۔اس کے لئے ایک تو یہ کہا کہ دعائیں کرو اس کے بغیر تمہیں ثبات قدم نہیں مل سکتا۔دوسرے یہ کہا کہ ایک آدھ چیز نہیں بلکہ ہر وہ طاقت اور صلاحیت اور قابلیت اور ہنر جو تمہیں دیا گیا ہے یا دولت یا مال یا اقتدار یا فراست کے نتیجے میں شہرت جو تمہیں ملی ہر چیز کو تم نے خدا تعالیٰ کے احکام کے مطابق خرچ کرنا اور استعمال کرنا ہے۔اور تیسرے یہ کہا کہ وَيَدْرَرُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ یہ نیکی کے کام ہیں۔نیکی کے کام کو اس طرح نہ کرو کہ اس کے نتیجہ میں فتنہ وفساد پیدا ہو بلکہ اس طرح کرو کہ جس کے نتیجے میں فتنہ اور فساد اور برائی اور ستیہ جو ہے اس کا علاج ہو جائے اور دُور ہو وہ۔اور ان ساری باتوں کا نتیجہ یہ نکلے گا اگر اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے اپنے فضل اور رحمت سے کہ ہم اس کی رضا کے لئے اس کے حکم کے مطابق اپنی زندگیاں گزارنے والے ہوں کہ أُولبِكَ لَهُم عُقْبَى الدَّار اپنی اپنی طاقت اور صلاحیت کے مطابق جو کام کئے ہوں گے اور مقبول ہو جائیں گے وہ۔اس کے مطابق ہمیں مقام مل جائے گا جنت میں۔(خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۳۱ تا ۳۶) اللہ تعالیٰ نے سورۃ رعد کی اس آیت میں بعض بنیادی تعلیمات کا ذکر فرمایا ہے۔ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ مومن اپنے رب کی رضا کی طلب میں ثبات قدم دکھاتے ہیں اور ان میں استقامت پائی جاتی ہے اور دوسرے یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہیں اور الصلوۃ کو ادا کرتے ہیں اور اسے قائم رکھتے ہیں اور تیسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جو کچھ بھی عطا کیا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں سرا وَ عَلَانِيَة یعنی اس رنگ میں بھی خرچ کرتے ہیں کہ ان میں ریا کا کوئی شائبہ پیدانہ ہو اور اس طور پر بھی کہ وہ دوسروں کے لئے نمونہ اور اُسوہ بنیں اور جب بدی کے ساتھ ان کا مقابلہ ہو تو وہ بدی کے مقابلہ میں بدی نہیں کرتے بلکہ نیکی کے ذریعہ سے بدی کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں لَهُم عُقْبَى الدَّارِ کہ جن کا انجام بہترین ہوتا ہے۔اگلی آیات میں اس دار کا ذکر ہے اور ان جنات کو بیان کیا گیا ہے جن کا کہ وعدہ دیا گیا ہے۔انسان اللہ تعالیٰ سے جو کچھ حاصل کرتا ہے وہ جب اسی کی راہ میں اسے خرچ کرتا ہے تو اس میں اس کے اوقات بھی آ جاتے ہیں، اس میں اس کی ذہنی صلاحیتیں بھی آجاتی ہیں اس میں اس کی جسمانی قوتیں بھی آجاتی ہیں اس میں اس کی اخلاقی طاقتیں بھی آجاتی ہیں اور اس میں اس کی روحانی