انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 346 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 346

۳۴۶ سورة الرعد تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث اللہ کا اظہار کرنا خدا تعالیٰ سے عاجزانہ دعائیں کرنا، اس کی حمد کرنا، کسی کو دکھ نہیں پہنچانا، کسی کو ستانا نہیں۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ایک رات گشت کی مدینے کی۔اگلے دن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ تم تہجد بہت اونچی آواز سے پڑھ رہے تھے۔یہ کیوں ہے۔انہوں نے عرض کی کہ میں اس طرح اپنے شیطان کو درے مار رہا تھا قرآن کریم سے بھاگتا ہے وہ۔آپ نے کہا نہیں اس طرح اتنی اونچی آواز سے نہیں پڑھنا۔آواز اتنی ہونی چاہیے بالکل خاموش بھی نہیں ، یہ یادرکھیں تہجد کی نماز کے متعلق یا اور دعا ئیں جو آدمی کرتا ہے تنہائی میں اس کے متعلق بنیادی حکم یہ ہے کہ نہ بالکل دل میں کرو دعا کہ اپنے کان تک بھی آواز نہ آئے خیال ہی خیال میں رہے، یہ صحیح ہے کہ خدا تعالیٰ کو دلوں کا حال معلوم ہے وہ جانتا ہے تمہارے دل میں کیا خیالات دعائیہ گزررہے ہیں۔اسی حدیث میں ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ سوال کیا آپ نے کہ اتنی آہستہ کیوں پڑھ رہے تھے کہ آواز ہی نہیں نکلی منہ سے۔آپ نے عرض کی خدا تعالیٰ تو دلوں کا حال جاننے والا ہے اس کے سامنے اونچی بولنے کی کیا ضرورت ہے۔آپ نے کہا ٹھیک ہے، اس کے سامنے تو اونچی بولنے کی ضرورت نہیں مگر تمہیں اتنا اونچی ضرور بولنا چاہیے دُعا کے وقت کہ تمہارے اپنے کان تک تمہاری آواز پہنچ جائے۔اب میں نے تین دفعہ الحمد للہ کہی تو میرے اپنے کانوں نے بھی نہیں سنی آپ نے بھی نہیں سنی یہاں اور اگر میں اس طرح کہوں گھر میں لاؤڈ سپیکر تو کوئی نہیں لگا ہوا الْحَمْدُ لِلَّهِ ، الْحَمْدُ لِلهِ ، الْحَمدُ لِلهِ ( آہستہ آواز میں۔ناقل ) میرے کان نے سن لی ہے اور اگر وہاں لاؤڈ سپیکر نہیں ہے تو آپ کے کان یا میرے پاس بیٹھا ہوا بھی نہیں سُن سکے گا جہاں بیچ میں ایک دیوار آ گئی وہ بھی نہیں سُن سکے گا۔اپنے گھر کے جو چھوٹے بچے ہیں وہ ڈسٹرب (Disturb) نہیں ہوں گے تو وہ دعا ئیں جو تنہائی میں کی جاتی ہیں۔ان کے متعلق حکم یہ ہے کہ وہ سدا ہوں خصوصاً تہجد کی نماز اونچی اونچی نہ ہو۔اس میں بعض استثنا ہیں۔مثلاً رمضان کے مہینے میں لیکن وہ جو ہم تراویح کی شکل میں نوافل پڑھتے ہیں۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے پتا لگتا ہے کہ گھر میں پڑھنا زیادہ اچھا ہے لیکن بعض کمزور لوگ چونکہ گھروں میں نہیں پڑھ سکتے ان کو اس نیکی سے رمضان میں محروم کرنا پسند نہیں کیا گیا۔اس لئے ان کے لئے تراویح مقرر کر دی گئیں ورنہ تہجد گھر کی نماز ہے۔خاموشی کی نماز ہے اور میں نے بتایا اصل تو بنیاد ہے صبر اور رضاء باری یعنی ثابت قدم رہنا اللہ تعالیٰ کی