انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 345 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 345

تفسیر حضرت خلیفتہ امسح الثالث ۳۴۵ سورة الرعد ہے کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے بہت بڑا گناہ ہے لیکن جو شرک کا مرتکب ہونے والا ہے اس کو سزا دینا یا معاف کرنا یہ میرا کام ہے تمہارا نہیں ہے۔تم نے ایک مشرک کے جذبات کو بھی ٹھیس نہیں پہنچانی۔تو قرآن کریم کوئی معمولی کتاب نہیں۔نہ پانچ دس باتوں پر اسے مشتمل سمجھا جا سکتا ہے کہ بس اسی پر مشتمل ہے یہ اور کوئی باریکیاں اور حسن اور نور اور وہ وسعت جس نے ہماری زندگیوں کا احاطہ کیا ہوا ہے وہ اس میں نہیں یہ غلط بات ہے۔زندگی اسلام میں ہو کر گزار جس کو ہم دوسرے لفظوں میں کہتے ہیں فنافی اللہ ہونا یعنی اللہ تعالیٰ کی محبت میں اس کے ہر حکم کے سامنے سر جھکا دینا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اسلام کے ایک معنی یہ ہیں کہ جس طرح ایک بکرا مجبوراً قصائی کی چھری کے سامنے اپنی گردن رکھ دیتا ہے اسی طرح تم ، جبر سے نہیں بلکہ اپنی خوشی اور رضا سے خدا تعالیٰ کے سامنے اپنی گردن رکھ دو اور اس کے بعد ایک نئی زندگی کو حاصل کرو اور اس کے بعد اوليكَ لَهُم عُقْبَى الدَّارِ میں جو وعدہ دیا گیا ہے اس کے وارث بنو۔اس چھوٹی سی آیت میں دراصل اسلامی تعلیم کا خلاصہ بیان کر دیا گیا۔خدا تعالیٰ کے دامن کو مضبوطی سے پکڑنا، وفا سے زندگی گزارنا ، ثبات قدم ہونا، کسی ایک حکم میں بھی اس کی ناراضگی مول نہ لینا۔دوسرے یہ کہ ان چیزوں کے حصول کے لئے محض اپنی طاقت اور صلاحیت کو کافی نہ سمجھنا، محض اپنے اخلاص اور صحت نیت پر بھروسہ نہ کرنا بلکہ یہ جاننا سب کچھ کرنے کے بعد کہ میں نے کچھ نہیں کیا اگر خدا تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت میرے اعمال کے شامل حال نہ ہو اور وہ اپنی رحمت سے میرے اعمال کو قبول نہ کرے۔اس وقت تک ان کی وہ جزا نہیں نکل سکتی جس کا وعدہ اس آیت میں کیا گیا۔تیسرے یہ کہ جو چیز بھی اللہ تعالیٰ نے انسان کو دی، مال دیا، دولت دی، اثر اور رسوخ دیا علم دیا اور فراست دی، ہزار باتوں میں مہارت کا ملکہ دیا، زندگی دی، اولا د دی۔ہر چیز کو خدا تعالیٰ کی امانت سمجھنا اور ہر چیز سے سلوک اس حکم کے مطابق کرنا جو خدا تعالیٰ نے دیا اور سرًّا وَ عَلَانِيَةً احكام بجالا نا بڑا وسیع حکم ہے یہ انفاق یعنی اللہ تعالیٰ نے جو بھی دیا، اس میں سے خرچ کرنا۔بعض باتیں ہیں جو سرا کی جاتی ہیں بعض چیزیں ہیں جو علانیہ کی جاتی ہیں۔بعض اعمال ہیں جو دونوں طرح کئے جاسکتے ہیں یعنی کبھی اعلانیہ کبھی مخفی طور پر۔مثلاً تہجد ، تہجد کی نماز بنیادی طور پر سرا ہے تنہائی میں اپنے محبوب