انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 334
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث شرف کا موجب ہے۔۳۳۴ سورة يوسف اس آیت میں قرآن کریم کے متعلق یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمام عالمین کے لئے رحمت ہیں ( رَحْمَةٌ لِلْعَلَمينَ ) اسی طرح قرآن کریم تمام عالمین کے لئے ذکر ہے۔ذکر عربی زبان میں مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے۔اس جگہ ذکر کے چار معنی چسپاں ہوتے ہیں اس کے پہلے معنی الْكِتَابُ فِيهِ تَفْصِيلُ الدِّينِ وَوَضْعُ الْمِلَلِ ( تفسیر کبیر جلد ۳ صفحه ۳۶۶) ایسی کتاب جس میں دین کی تفاصیل اور احکام شریعت کامل طور پر بیان کئے گئے ہیں۔تو فرمایا کہ قرآن کریم ایک کامل کتاب شریعت ہے۔کوئی شرعی حکم ایسا نہیں جو اس میں بیان ہونے سے رہ گیا ہو اور دین و مذہب کے متعلق جتنی بھی تفصیل انسان کے لئے ضروری ہے۔وہ ساری کی ساری اس کتاب میں بیان کر دی گئی ہے۔پس اس کی اتباع اللہ تعالی کی انتہائی خوشنودی کے حصول کا ذریعہ ہے۔اس کے دوسرے معنی ہیں الشرفی ( تفسیر کبیر جلد ۳ صفحہ ۳۶) بلند مرتبہ، رفعت اور بزرگی۔تو فرمایا کہ جو احکام شریعت قرآن کریم میں بیان کئے گئے ہیں۔اگر تم ان کو سیکھو گے سمجھو گے اور ان پر عمل کرو گے۔تو اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ تمہیں بلند مرتبہ اور رفعت اور بزرگی عطا کرے گا۔اور اتباع قرآن کے ذریعہ آسمانی (روحانی) رفعتوں کے وہ دروازے جو خدا تعالیٰ کے قرب کی راہوں کو ڈھونڈنے والوں کے لئے کھولے جاتے ہیں۔تم پر کھولے جائیں گے۔اس کے تیسرے معنی الثّناءُ ( تفسیر کبیر جلد ۳ صفحہ ۳۶۶) کے ہیں۔تعریف اور حمد۔تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب اتباع قرآن کے نتیجہ میں روحانی رفعتوں کو تم حاصل کر لو گے تو تمہیں تعریف اور ثنا بھی حاصل ہو جائے گی۔القنَا کا لفظ جس قسم کی تعریف کے متعلق بولا جاتا ہے۔اس میں ایک لطیف اشارہ پایا جاتا ہے۔وہ یہ کہ کسی دوسرے کامل وجود کا ثانی بنا یعنی اس کے اخلاق کی اتباع کر کے اس کا رنگ اختیار کرنے کی کوشش کرنا۔پس اس میں توجہ دلائی گئی ہے کہ قرآن کریم نے جو تعلیم تمہارے سامنے رکھی ہے۔وہ یہی ہے کہ تم تَخَلُّق بِأَخْلَاقِ اللہ حاصل کر سکو۔اللہ تعالیٰ کے اخلاق کے مظہر بن سکو۔اور جب تم اللہ تعالیٰ کے اخلاق کا مظہر بن جاؤ گے تو ہر صاحب عقل و بصیرت تمہاری تعریف تمہاری ثنا اور تمہاری حمد کرنے پر مجبور ہوگا۔