انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 335 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 335

۳۳۵ سورة يوسف تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث اس کے چوتھے معنی الصیت ( تفسیر کبیر جلد ۳ صفحه ۳۶۶) یعنی ذکر خیر کے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ احکام قرآنی پر عمل کرنے کے نتیجہ میں جو بزرگی اور رفعت حاصل ہوتی ہے اور بندہ خدا تعالیٰ کی صفات کا مظہر بن جاتا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک دنیا ایسے لوگوں سے فائدہ حاصل کرتی ہے۔صرف ان کی اپنی نسل پر ہی نہیں بلکہ ایسے لوگوں کا احسان آئندہ آنے والی نسلوں پر بھی ہوتا ہے۔اس کی وجہ سے ان کا ذکر خیر باقی رہ جاتا ہے۔کیونکہ ذکرِ خیر صرف اسی شخص ، گروہ یا سلسلہ کا ہی قائم رکھا جاتا ہے (اور رکھا جانا چاہیے ) کہ جس کا احسان آئندہ نسلوں پر ہو اور اس طرح آئندہ نسلیں اس شخص گروه یا سلسلہ کو یا درکھتی ہیں اور مجھتی ہیں کہ پہلوں نے ہم پر بڑے احسان کئے ہیں۔اور ہمیں ان احسانوں کو بھولنا نہیں چاہیے۔مثلاً ہم احادیث کے جمع کرنے والے بزرگوں کا ادب اور احترام اور دعا کے ساتھ ذکر کرتے ہیں۔ان کا ذکر خیر اسی وجہ سے قائم ہے کہ ان لوگوں نے اپنی زندگیاں ہمارے فائدے کے لئے صرف کر ڈالیں۔ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال کو جمع کیا۔ان کی چھان بین کی اور انہیں ہم تک پہنچانے کا انتظام کیا۔اس احسان کے بدلہ میں ان کا ذکر خیر نسلاً بَعْدَ نَسل ہم تک چلا آیا اور آئندہ بھی چلتا چلا جائے گا۔خطبات ناصر جلد اول صفحه (۲۹۶، ۲۹۷) آیت ۱۰۷ وَمَا يُؤْ مِنْ اَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُونَ اللہ پر ایمان کا دعویٰ کرتے ہوئے بھی شکوک اور شبہات ہو جاتے ہیں۔مثلاً اس کو قادر مطلق بھی سمجھنا اور اس کے علاوہ کسی اور کو اپنی تکلیفوں کو دور کرنے کا یا اپنی خواہشات کو پورا کرنے کا ذریعہ بھی بنانا۔اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا وَ مَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُم بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُونَ ایمان بھی ہے اور شرک بھی ہے ایک ہی ساتھ۔شک میں پڑ گئے ناکہ محض تو کل کافی نہیں ، تو کل باللہ کا فی نہیں قبر پہ بھی سجدہ کر لینا چاہیے، ناجائز پیسے دے کر بھی اپنا کام بنوا لینا چاہیے، جھوٹ بول کر اپنی حفاظت کا ذریعہ ڈھونڈ نا چاہیے وغیرہ وغیرہ ہزار قسم کے شرک بیچ میں آ جاتے ہیں۔شرک اس وجہ سے آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ پر پورا تو کل نہیں ہوتا۔شبہ ہوتا ہے پتا نہیں خدا ہمیں ہمارے حق دلوا بھی سکتا ہے یا نہیں۔میں نے پہلے بھی بتا یا ایک دفعہ ایک دوست نے لکھا کہ اس کے ایک عزیز پر قتل کا مقدمہ ہوگیا ہے۔قتل ہوا