انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 332
۳۳۲ سورة يوسف تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث دلا کر کہ کن مسائل اور مشکلات میں سے گزرے ہیں۔میں نے کہا کہ یہ تمہارے حل کرنے کا مسئلہ نہیں۔جس نے حل کرنا تھا وہ مسئلہ حل کر چکا ایک اُسوہ پیدا کر دیا ہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تیرہ سال مکی زندگی میں اور پھر آٹھ سال کے قریب کم و بیش مدنی زندگی میں ہیں سال تک ہر قسم کا دکھ اور تکلیف ان کو دی گئی۔عورتوں کو نہایت بہیمانہ طور پر قتل کیا گیا۔مردوں پر مظالم ڈھائے گئے اور بھوکا مارنے کی کوشش کی گئی۔کوئی ایسی ایذا نہیں تھی جو پہنچانے کی کوشش نہیں کی گئی اور جب خدا تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے حالات بدل دیئے اور دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آپ مکہ کے باہر آ کے ٹھہرے اس وقت رؤسائے مکہ جو سارا عرصہ دیکھ دینے میں اپنی زندگی گزار چکے تھے ان کو یہ نظر آ گیا تھا کہ حالات بدل گئے ہیں اس وقت ہم اگر میان میں سے تلوار نکالیں گے حماقت کریں گے۔انہوں نے تلواریں اپنی میانوں میں سے نہیں نکالیں۔اتنے حالات بدل چکے تھے اس وقت ، ان کو یہ پتا تھا کہ شخص حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس پوزیشن میں ہے، اتنی طاقت ہے اس کی کہ جو چاہے ہمارے ساتھ سلوک کرے اور سلوک کیا کیا حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھ دینے والوں سے؟ جنہوں نے ایک سانس سکھ کا نہیں لینے دیا تھا اس نے کہا جاؤ سب کو معاف کرتا ہوں لَا تَثْرِیبَ عَلَيْكُم الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللهُ لَكُمْ میں معاف ہی نہیں کرتا بلکہ تمہارے لئے دعا بھی کروں گا کہ خدا بھی تمہیں معاف کر دے۔میں نے کہا وہ نمونہ ہے تمہارے سامنے تم لڑتے ہو اور معاف نہیں کرتے ، ایک دوسرے کی عزت نہیں کرتے۔اسلام نے ، حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا دیکھو۔اگر کوئی بڑوں کی عزت نہیں کرے گا تو وہ میرے اُسوہ پر نہیں عمل کر رہا۔اگر کوئی چھوٹوں سے شفقت کا سلوک نہیں کرے گا تو وہ اسلامی تعلیم پر عمل نہیں کرتا۔( خطبات ناصر جلد ہشتم صفحه ۱۶۱،۱۶۰) اس قدر عظیم ہے یہ خُلق خلق عظیم جسے کہا گیا ہے، یہ خلق جو ہے وہ بڑا عظیم ہے۔دشمن ہوتے ہیں، بہت ہی کم لوگ ہوں گے دنیا میں جو لمبا عرصہ دشمن کے وار سہنے کے بعد اور وار بھی انتہائی، تیرہ سالہ زندگی میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین نے انتہائی مظالم ڈھائے آپ پر ، آپ کے متبعین پر، ان میں سے ایک واقعہ یہ بھی تھا کہ اڑھائی سال تک ہر ممکن کوشش کی کہ بھوکوں مر جائیں لیکن اللہ تعالیٰ نے وہ منصوبہ بھی نا کام کیا، پھر جو غلام تھے ان کے، جب وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے توان تیرہ سالوں میں جب تک کہ انہیں آزاد نہیں کیا اسلامی کوشش نے ، حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ط