انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 324 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 324

۳۲۴ ط سورة يوسف تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث دنیوی سہارے اپنے وقت پر آ کر ٹوٹ جاتے ہیں اور اس انسان کو ایک عذاب میں مبتلا کر دیتے ہیں جس نے اپنے دوسرے بھائی پر بھروسہ کیا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ فرمایا ہے کہ اگر انسان کے سر میں روشنی اور جلا ہو اس میں عقل ہو وہ ایک حد تک اپنے مفاد کا حقیقی علم رکھتا ہو اور حقیقی کامیابی چاہتا ہو تو اسے صرف اس ہستی پر توکل اور بھروسہ کرنا چاہیے جو تمام صفات حسنہ سے متصف اور تمام نقائص سے مبرا ہے فرمایا۔اِنِ الْحُكْمُ إِلا لِلهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۚ وَ عَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ المُتَوَكَّلُونَ۔لفظ اللہ کے معنی اسلام، قرآن کریم، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور بعد میں آنے والے لوگوں نے بالا تفاق یہ کئے ہیں کہ وہ وہ پاک ذات ہے جو تمام صفاتِ حسنہ سے متصف اور تمام کمزوریوں اور نقائص سے بری اور بالا ہے اور اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فیصلہ تو اسی اللہ ہی کا جاری ہونا ہے جو تمام صفات حسنہ سے متصف ہے اور اس میں کوئی کمزوری اور نقص نہیں پایا جاتا۔یہاں گوشتکلم کا صیغہ استعمال ہوا ہے لیکن ایک اصول بیان ہوا ہے اور وہ یہ کہ صرف اسی ذات پر ہی تو محل کرنا چاہیے چنانچہ آگے اس کا بیان بھی ہو گیا ہے فرما یا عَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِمُونَ اگر کسی نے اعتماد اور بھروسہ کرنا ہوا گر کسی کو یہ احساس ہو کہ میں اکیلا اس دنیا میں امن کی اور آرام کی اور سکون کی زندگی بسر نہیں کر سکتا مجھے دوسروں کے سہارا کی ضرورت ہے تو اسے یا درکھنا چاہیے کہ اسی کے لئے ایک ہی سہارا ہے جو کامل سہارا ہے اور جس پر پورا اعتماد کیا جا سکتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات اگر سہارا دینے پر تیار ہو جائے تو پھر انسان کسی اور چیز کا محتاج نہیں رہتا وہی سب کچھ کر دیتا ہے عَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكَّلُونَ انسان نے اگر دنیا میں کسی کا سہارا لیتا ہے اس نے کسی پر توکل کرنا ہے تو ہم اسے کہتے ہیں کہ تم جھوٹے سہاروں کی بجائے بچے سہارے کی تلاش کرو اور کامل تو کل اپنے رب پر رکھو کامل اعتما داس کا حاصل کرواسی کو اپنا سہارا بناؤ۔قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ أَمَنَّا بِهِ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا (الملك : ٣٠) اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ایسی ہے کہ وہ احسان کرتے ہوئے یہ نہیں دیکھتا کہ جس پر وہ احسان کر رہا ہے اس نے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا ہے یا نہیں ( گواس پر تو احسان کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا وہ کامل صفات والی ذات ہے اس کو کسی چیز کی کمی نہیں ) اس کے اندر استحقاق پایا جاتا ہے یا نہیں پایا جاتا اگر انسان کے اندر کوئی خامی اور کمزوری ہو اور اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی اور ادا پسند آ جائے تو وہ کمزوری اور خامی دور ہو جاتی ہے ایسا شخص مغفرت