انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 323 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 323

تفسیر حضرت خلیفة اسم الشارقة ۳۲۳ سورة يوسف اس کا بھی افسر ہوتا ہے اور وہ اس کی بات نہیں مانتا اس طرح وہ اپنے دوست سے کہہ دیتا ہے بڑا افسوس ہے کہ میرا افسر میری بات مانتا نہیں غرض وہ اپنی بات منوانے کی قدرت نہیں رکھتا اور یہ بڑا بھاری نقص ہے اور جو سہار ا وقت پر کام نہ آئے اس کو انسان نے کیا کرنا ہے۔پانچواں نقص دنیوی سہاروں میں ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ وہ ابدی نہیں ہوتے یہ عطا غیر محدود نہیں ہوتی محدود ہوتی ہے اور انسان کی تو اپنی ساری ضرورتیں پوری ہوتیں ہیں اگر کسی کو پانچ دن کھانے کو مل جائے اور پھر پانچ دن کھانے کو نہ ملے تو دنیوی لحاظ سے وہ زندگی کوئی زندگی نہیں اگر چھ ماہ اس کی عزت قائم رہے اور اس کے بعد وہ جتنی مرضی ہو خوشامد کر لے لیکن اگلا آدمی اس کی حفاظت کے لئے تیار نہ ہو اور اس طرح اگلے چھ ماہ اسے ذلت پہنچے تو پہلے چھ ماہ کی عزت کو اس نے کیا کرنا ہے۔چھٹا نقص دنیوی سہاروں میں ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ سہارا دینے والا حکمت کے پہلوؤں پر پوری نظر نہیں رکھتا اور نہ نظر رکھ سکتا ہے مثلاً ایک نوجوان نے ایف اے یا ایف ایس سی کا امتحان پاس کر لیا ہوا اور کوئی شخص اسے یہ کہے کہ تم میڈیکل کالج میں داخلہ لے لو میں تمام اخراجات برداشت کروں گا لیکن اس نوجوان کا دماغ طب کی طرف جاتا ہی نہیں اس طرح گوا سے دنیا میں تعلیم کے لئے سہارا تو مل گیا لیکن وہ دو یا چار سال کالج میں ضائع کر کے اپنی تعلیم کو چھوڑ دیتا ہے اور بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ وہ کسی اور کام کا نہیں رہتا مثلاً وہ کوئی دوسری پڑھائی کرنے تک اوور ایج(Over Age) ہوجاتا ہے غرض دنیوی سہاروں میں ہمیں حکمت کا ملہ نظر نہیں آتی۔ساتواں بنیادی نقص دنیا کے سہاروں میں یہ ہے کہ وہ ربوبیت تامہ نہیں کر سکتے مثلاً ماں باپ ہی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کو بچوں کے لئے بڑا سہارا بنایا ہے لیکن جہاں تک ربوبیت تامہ کا سوال ہے وہ نہیں کر سکتے بسا اوقات وہ بچوں کے اخلاق اور ان کی طبیعتوں کو خراب کر دیتے ہیں اور اس طرح ہمیشہ کے لئے اس دنیا میں ایک عذاب ان کے لئے پیدا کر دیتے ہیں پس گور بوبیت کے ظلی نظارے ہمیں ہر خاندان میں نظر آتے ہیں لیکن ربوبیت تامہ کا نظارہ ہمیں کسی ایک خاندان میں بھی نظر نہیں آتا۔آٹھواں بنیادی نقص دنیا کے سہاروں میں یہ پایا جاتا ہے کہ چونکہ انسان کو کامل علم حاصل نہیں ہوتا اس لئے گو وہ بعض دفعہ نیک نیتی سے کسی دوسرے کو سہارا دیتا ہے لیکن اس کا نتیجہ بڑا خطرناک ہوتا ہے کیونکہ اس کو پتہ نہیں تھا کہ چھ ماہ کے بعد کیا ہونے والا ہے؟ گویا علم کامل نہ ہونے کی وجہ سے