انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 25
تفسیر حضرت خلیفۃالمسیح الثالث سورة المائدة بات علم اور معرفت اور عرفان کا حصول ہے۔علم نقلی اور ساعی بھی ہے یعنی روایت اور پہلوں کے مشاہدے سے انسان علم حاصل کرتا ہے اور پہلوں کے مشاہدات اور ان کے تجربوں کے نتائج سے غفلت برت کر خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کرتا اور ایک اس کا اپنا مشاہدہ ہے وہ بھی علم کا ذریعہ بنتا ہے۔۔۔۔۔۔۔اگر یہ پہلو یعنی خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات کے متعلق علم اور معرفت رکھنا جو کہ پہلا پہلو اور بنیادی چیز ہے اگر یہ نہ ہوگا تو اتقوا کا جو حکم ہے کہ خدا کی پناہ میں آجاؤ اور اپنی ترقیات کے لئے اور اپنی جنتوں کے حصول کے لئے اس کے قرب کو حاصل کرو یہ حکم پورا نہیں ہوسکتا۔اس علم کے نتیجہ میں پھر آگے دو چیزیں پیدا ہوتی ہیں ایک عبادت ہے خدا تعالیٰ کے حضور انسان کا سر جھک جاتا ہے اس کو ہم حقوق اللہ کی ادائیگی کہتے ہیں اور دوسرے مکارمِ شریعت پر عمل کرنا ہے۔الغرض وسیلہ کے لئے یعنی قرب الہی کے حصول کے لئے تین باتیں بتائی گئی ہیں ان میں سے پہلی بات علم ہے یعنی خدا تعالیٰ اور اس کی صفات کی معرفت اور عرفان اور ان صفات کے جلوؤں پرغور کرنا جو اس نے انسان کے سامنے اپنے کلام میں ظاہر کئے اور جو خدا تعالیٰ اپنے اس تعلق میں ظاہر کرتا ہے جو اس کے نیک بندے اس سے حاصل کر سکتے ہیں مثلاً نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہے اس پر غور کرنے سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ خدا تعالیٰ کتنا پیار کرنے والا ، خدا تعالیٰ کس رنگ میں ربوبیت کا مظاہرہ کرنے والا اور خدا تعالیٰ کس طرح اپنی رحمانیت کے جلوے انسان پر ظاہر کرنے والا ہے، على هذا القیاس۔اور اس معرفت اور عرفان کا نتیجہ یہ ہے کہ ایک تو حقوق اللہ کی ادائیگی کی طرف ہمیں توجہ ہوتی ہے اور ہم عبادت کو اس کے پورے حقوق کے ساتھ ادا کرتے ہیں اور دوسرے بنی نوع انسان کے آپس کے تعلقات میں شریعت محمدیہ اور شریعت حقہ اسلامیہ کے مکارم کو اپنانے اور خدا کے پیدا کردہ انسان کے ساتھ اُس سلوک کے کرنے کی طرف ہمیں توجہ ہوتی ہے جس سلوک کا حکم قرآن کریم کی شریعت اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ اور ارشادات میں ہمیں نظر آتا ہے۔پس وسیله یعنی خدا تعالیٰ کے قرب کو حاصل کرنے کی جو راہ ہے اس کے تین طریقے بتائے گئے ہیں، تین راہوں کی تعیین کی گئی ہے جو خدا تعالیٰ کے قرب تک لے جانے والی ہیں ایک علم ہے یعنی معرفت اور عرفان ، دوسرے اس کا تقاضا عبادت اور حقوق اللہ کی ادائیگی ہے اور تیسرے مکارم شریعت کے مطابق انسان کے ساتھ حسن سلوک اور خدا تعالیٰ کی دوسری مخلوق کے ساتھ وہ برتاؤ ہے جیسا برتاؤ کہ