انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 24
۲۴ سورة المائدة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ہیں اور ہزار بت کے گرد ان کا طواف ہے اور زبان سے یہ دعوی بھی ہے کہ ہم خدائے واحد و یگانہ کی پرستش کرنے والے ہیں۔یہ تضاد ہمیں اس لئے نظر آتا ہے کہ بنیادی طور پر انہیں خدا تعالیٰ کی وحدانیت کی معرفت حاصل نہیں اور چونکہ انہیں خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا ، اس کے احد ہونے کا عرفان ہی حاصل نہیں اس لئے خدا تعالیٰ کی وحدانیت کی معرفت اور اس کا علم جن باتوں کا تقاضا کرتا ہے وہ اس کو پورانہیں کرتے اور پورا کر ہی نہیں سکتے کیونکہ انہیں علم ہی نہیں کہ خدائے واحد و یگانہ کی معرفت کے بعد انسان پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔خدا تعالیٰ رب ہے نیز قرآن کریم نے دوسری بہت ساری صفات بیان کی ہیں جن کا تعلق انسان کی زندگی کے ساتھ ہے ان میں سے بعض بنیادی ہیں اور بعض ان سے تعلق رکھنے والی ہیں۔اس کے ساتھ ہی یہ کہا کہ میری صفات کا مظہر بننے کی کوشش کرو اور میری صفات کا رنگ اپنے اوپر چڑھاؤ۔اب اگر انسان رب کی ربوبیت کا علم نہیں رکھتا، اسے اس کی معرفت ہی حاصل نہیں۔اس رنگ کو وہ پہچانتا ہی نہیں تو اپنی ذات پر اور اپنی صفات پر وہ اس رنگ کو کیسے چڑھائے گا۔یہ واضح بات ہے کوئی گہری اور دقیق بات نہیں ہے کہ جب تک رنگ کی پہچان نہیں اس رنگ کو اپنے نفس کے اوپر چڑھایا ہی نہیں جا سکتا۔اب ربوبیت رب العالمین کا تقاضا یہ ہے کہ جہاں تک انسان کی طاقت ہو وہ ہر مخلوق کی نشوونما کے سامان پیدا کرنے کی کوشش کرے جہاں تک کہ انسان کا تعلق ہے۔اللہ تعالیٰ نے تو رب ہونے کی حیثیت سے اگر کسی چیز کو پیدا کیا تو اس کو قومی اور طاقتیں بھی دیں اور ان کی نشو ونما کے سامان بھی پیدا کئے۔پس جو شخص صفت رب العالمین کی معرفت اور علم رکھتا ہے وہ تو یہی رنگ اپنے پر چڑھائے گا اور وہ کسی شخص کو اس کے حق سے محروم نہیں کرے گا لیکن جو شخص اس صفت کا علم ہی نہیں رکھتا اسے اس کی معرفت ہی حاصل نہیں وہ اس کے مطابق عمل نہیں کر سکتا اور یہ بنیادی حکم کہ میری صفات کا رنگ اپنے اوپر چڑھاؤ اور اس کے مطابق دُنیا سے یعنی اپنے بھائی بندوں سے اور دوسری مخلوق سے سلوک کرو وہ اس کے مطابق عمل نہیں کرسکتا۔پس خدا تعالیٰ کو اپنی حفاظت کے لئے ڈھال بنانے ، خدا تعالیٰ کے قرب کی راہوں کو حاصل کرنے کے لئے اس کی پناہ میں آجانے اور خدا تعالیٰ کے پیار کو خدا کے فضل سے حاصل کرنے کے لئے جو ذریعہ ہے اس کے متعلق خدا تعالیٰ نے فرمایا وَ ابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ کہ اس وسیلہ کو تلاش کرو جو خدا تعالیٰ نے تمہارے سامنے رکھا ہے اور میں نے بتایا ہے کہ وہ تین باتیں ہیں۔ان میں سے پہلی