انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 311
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث اعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۳۱۱ سورة يوسف بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة يوسف آیت إِنَّا اَنْزَلْنَهُ قُرُ نَّا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ میں اپنے مربی بھائیوں کو آج اسی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اللہ کی نگاہ میں صحیح مربی بننے کے لئے دو بنیادی چیزوں کی ضرورت ہے۔ایک نور فراست دوسرے گداز دل۔قرآن کریم نے یہ دعوی بھی کیا ہے کہ میں عقل کے نقص کو دور کرنے والا اور اس کو کمال تک پہنچانے والا ہوں اور اس کی جو خامیاں ہیں وہ میرے ذریعہ دُور ہونے والی ہیں اور اس کے اندھیرے میرے ذریعہ روشن ہونے والے ہیں۔نیز قرآن کریم نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ میرے نزول کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ گداز دل پیدا کئے جائیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ سورہ یوسف میں فرماتا ہے۔اِنَّا اَنْزَلْنَهُ قُرُ إِنَّا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ - اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ قرآن کریم کو نازل کرنے اور ایک ایسی کتاب بنانے میں جو اپنے مضامین کو کھول کر بیان کرتی ہے ایک حکمت یہ ہے کہ انسان اپنی عقل سے صحیح کام لے سکے یعنی عقل میں جو فی نفسہ ایک بنیادی خامی ہے کہ آسمانی نور کے بغیر اندھیروں میں بھٹکتی رہتی ہے اس خامی کو قرآن کریم دور کرے۔جس طرح ہماری آنکھ باوجود تمام صلاحیتوں کے اور دیکھنے کی سب قو تیں رکھنے کے اپنے اندر یہ قص بھی رکھتی ہے کہ وہ خود دیکھنے کے قابل ہے ہی نہیں۔جب تک بیرونی روشنی اسے میسر نہ ہو۔ہر شخص جانتا ہے کہ ہماری آنکھ دیکھتی ہے لیکن وہ اندھیروں میں نہیں دیکھتی۔ایسے وقت میں جب رات ہو اور بادل چھائے ہوئے ہوں تو ہاتھ کو ہاتھ سوجھائی نہیں دیتا۔آنکھ کے قریب ترین ناک ہے اندھیرے میں وہ اسے بھی نہیں دیکھ سکتی۔انگلی اس کے قریب لے آؤ تو اس اندھیرے میں وہ اسے