انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 312
تفسیر حضرت خلیفۃالمسیح الثالث ۳۱۲ سورة يوسف بھی نہیں دیکھ سکتی۔غرض باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے دیکھنے کی سب صلاحیتیں اس میں رکھی ہیں اسے ایک قید میں بھی جکڑا ہے اور فرمایا ہے کہ سورج کی روشنی کے بغیر یا بیرونی روشنی کے بغیر تمہاری قوتیں ظاہر نہیں ہوں گی۔اس قید میں مقید کر کے اللہ تعالیٰ نے ساری قوتیں اسے عطا کر دیں۔اسی طرح عقل صحیح کام نہیں دے سکتی۔وہ اس وقت تک اندھیروں میں بھٹکتی رہتی ہے جب تک کہ آسمانی نور اور روشنی اسے عطا نہ ہو۔سورہ یوسف کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ عقل کے استعمال کے سب سے روشن سامان قرآن کریم کے ذریعہ نازل کر دیئے گئے ہیں۔اگر بنی نوع انسان نے اپنی عقلوں سے صحیح فائدہ اُٹھانا ہو بہترین فائدہ اُٹھانا ہو تو ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ عقل کے لئے قرآن کریم کے انوار مہیا کر یں۔تب ان کی عقلیں منور ہو کر صحیح طور پر کام کرسکیں گی۔یہ صحیح ہے کہ دنیا میں دنیوی طور پر ایک حد تک عقل کام کر رہی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے جو یہ دعویٰ قرآن کریم میں کیا ہے اس پر اس وجہ سے کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا اس لئے کہ قرآن کریم ہی کے کچھ حصے پہلے انبیاء کو دیئے گئے تھے۔ان حصوں نے انسانی عقل میں ایک جلا پیدا کی یہ جلا دنیوی طور پر انسان کے ساتھ رہی گوروحانی طور پر یہ جلا اور روشنی انسان سے اگر وہ اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی تعلیم پر عمل نہ کرے چھین لی جاتی ہے۔بہر حال عقل نے ترقی کی اس نے ارتقا کی ایک منزل طے کر لی اور دنیوی لحاظ سے وہ پہلے کی نسبت بہتر ہو گئی (دینی لحاظ سے اس کے لئے ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ کی ہدایت پر وہ چلتی رہے ) پھر ایک کے بعد دوسرا نبی آیا اور دنیوی عقل نے اور ترقی کی ، پھر اور ترقی کی ، پھر اور ترقی کی یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ آ گیا اور قرآن کریم کا نزول ہوا جو اس عالمین کے لئے اور انسانی عقل کے لئے تمام اندھیروں کو دور کرنے والا نور ہے۔قرآن کریم کے نزول کے وقت دنیوی عقل پہلے انبیاء کی ہدایتوں کے نتیجہ میں ایک حد تک مدارج ارتقا طے کر چکی تھی لیکن وہ پھر بھی اس کا کمال نہیں تھا۔دنیوی لحاظ سے بھی قرآن کریم کی لائی ہوئی روشنی میں انسانی عقل نے ترقی کی ہے جیسا کہ پچھلے چودہ سو سال میں انسانی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ آج کل یورپ میں جو دنیوی علوم ترقی یافتہ شکل میں ہمیں نظر آتے ہیں ان تمام علوم کی بنیاد ان بنیادی مسائل اور پیچیدگیوں کے حل ہونے پر ہے کہ جو بنیادی مسائل مسلمانوں نے معلوم کئے اور جن پیچیدگیوں کو مسلمانوں نے دور کیا اسی بنیاد پر یورپ کے فلسفہ اور سائنس کی عمارت کھڑی ہوئی ہے۔غرض دنیوی