انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 307
تغییر حضرت علیلة أسبح الثالث ۳۰۷ سورة هود بھی بول سچ بول اور ایک شخص متواتر جھوٹ ہی بولتا چلا جاتا ہے۔عادت اس کی بن گئی ہے جھوٹ بولنے کی۔یہ حد سے بڑھنا ہے یعنی اس نے صراط مستقیم کو چھوڑ دیا۔جو اسلامی تعلیم کی شاہراہ تھی اس کے کبھی دائیں طرف نکل جاتا ہے باہر حدود سے اور کبھی بائیں طرف نکل جاتا ہے۔تو وَلَا تَطْغَوا میں جو حکم ہے وہ یہ ہے کہ تعلیم کے اندر رہتے ہوئے جو تمہیں ہم نے اختیار دیا تھا کہ خودسوچو، غور کرو دعائیں کرو اور ایسے رنگ میں دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ قبول کرے اور تمہیں بتادے کہ تم نے دایاں راستہ اختیار کرنا ہے یا بایاں اختیار کرنا ہے۔اگر تمہاری دعا قبول نہیں ہوتی ، کی بھی تم نے۔تمہارے اندر کوئی اور کمزوری ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ قبول نہیں کرتا۔تو گناہ تو ہو گیا۔اسلامی تعلیم کے خلاف ہوا کیونکہ اسلامی تعلیم یہ کہتی ہے کہ جہاں عفو کرنا ہے اگر تم عفو کی بجائے انتقام لو گے تو غلطی کرو گے۔اسلام یہ کہتا ہے کہ سچ بولو اور قولِ سدید ہو۔اس میں کوئی ایچ پیچ نہ ہو۔کوئی کبھی نہ ہو۔یہ تو بالکل واضح حکم ہے لیکن اسلام یہ بھی کہتا ہے کہ جو سننے والا ہے تم اس کی عقل کے مطابق بات کرو۔اب ایک شخص ہے وہ کسی کو سمجھارہا ہے اسلامی تعلیم کسی عیسائی کو لیکن عقل کے مطابق بات کرنے کا جو حکم تھا اس کے مطابق اس کا فیصلہ نہیں، تو یہ گناہ تو ہے لیکن بات وہ سچی کر رہا ہے لیکن اس کی سمجھ کے مطابق، اس کی عقل کے مطابق نہیں کر رہا۔یہ غلطی کر رہا ہے۔یہ ولا تَطْغَوا والا جو حکم ہے کہ عصیان میں، گناہ میں حد سے نہ بڑھو۔یہ اس کے نیچے نہیں آتا اللہ تعالیٰ معاف کر دیتا ہے۔اور بڑی ایک ہدایت اور راہنمائی کی یہ بات ہمیں بتائی کہ جو ظاہر طور پر بغیر کسی شک وشبہ کے ظلم کرنے والی اور ظلم میں حد سے بڑھنے والی قومیں یا گروہ یا جماعتیں ہیں ان کی طرف جھکومت بلکہ قائم رہو سیدھے ہو کر۔سیدھا راستہ ہے اس کے اوپر تم اپنے مقصود کی طرف منہ کر کے چلتے رہو۔ظلموا میں یہ مراد نہیں کہ یونہی کسی کو کہہ دو کہ تم ظالمانہ راہوں کو اختیار کر رہے ہو۔یہاں یہ مراد ہے وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ کہ ایسا ظلم جس کے متعلق کھلے طور پر انسان کی عقل کہتی ہے کہ یہ لوگ خدا تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکتے۔مثلاً فساد پیدا کرنا، آپس میں لڑنا، مثلاً ناجائز علاقوں پر جانا، قبضہ کرنا اور وہاں قتل و غارت کرنا۔مثلاً عالمگیر جنگیں لڑنا، دو جنگیں انسان لڑ چکا ہے۔جو ان جنگوں کے ذمہ دار ہیں جو ان جنگوں کی تباہی سے انسان کو بچا سکتے تھے اور انہوں نے ایسا نہیں کیا ان کا ظلم بالکل ظاہر ہے۔