انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 306
٣٠٦ سورة هود تفسیر حضرت علیلة أسبح الثالث آجاؤ۔وَلَا تَطْغَوا کے معنی جیسا کہ میں نے بتایا اس حکم میں یہ ہیں کہ گناہوں میں حد سے نہ بڑھو۔اس کے ایک معنی یہ ہیں جو راہ اسلام نے انسان کو دکھائی۔جس راہ پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش پاشبت ہیں۔جس کی وجہ سے آپ ہمارے لئے اُسوہ بن گئے۔اس راہ کے اندر بھی بعض ڈسکریشن (Discretions) ہیں یعنی انسان کو انتخاب کا اختیار دیا گیا ضرورت کے مطابق جس کو ہم عملِ صالح کہتے ہیں یعنی انسان کے سامنے اسی راہ میں آگے چلتے ہوئے یہ بات آتی ہے کہ میں اس راہ کے دائیں طرف چلوں یا اس راہ کے بائیں طرف چلوں۔اگر وہ غلطی کرتا ہے اور دائیں طرف نہیں چلتا۔راہ وہی ہے۔صراط مستقیم لیکن اس صراط مستقیم کے دائیں طرف نہیں چلتا بائیں طرف چلتا ہے۔راستہ اس نے نہیں چھوڑا لیکن گناہ اس نے کر دیا کیونکہ موقع اور محل تقاضا کرتا تھا کہ وہ دائیں طرف چلے اور اس نے فیصلہ کیا اپنی سمجھ کے مطابق کہ میں بائیں طرف چلوں جو غلط فیصلہ تھا اور غلط فیصلوں پر تو ثواب انسان کو نہیں ملتا۔یہ میں نے مسئلہ بیان کیا ہے۔میں اب مثال دیتا ہوں اس کی۔اسلام کہتا ہے اگر کوئی تمہارا گناہگار ہو جائے، تم پر زیادتی کرنے والا ہو تو تمہارے لئے اسلام کی صراط مستقیم میں دور ستے ہیں۔ایک عفو کر دینے کا اور ایک انتقام لینے کا۔ہر دو صراط مستقیم ہی ہیں یعنی عفو سے کام لینا موقع اور محل کے مطابق۔یہ بھی صراط مستقیم پر چلنا ہے۔موقع اور محل کے مطابق انتقام لینا، عفونہ کرنا، یہ بھی صراط مستقیم پر چلنا ہے لیکن ایک شخص اپنا فیصلہ کرتا ہے جو اس کو اختیار دیا گیا لیکن غلط کرتا ہے تو گناہگار بن گیالیکن گناہ میں حد سے نہیں بڑھا۔وہ جو حدود قائم کر دیں اللہ تعالیٰ نے اس راستہ کی۔صراط مسقیم کی۔اس کے اندر ہی رہا ہے لیکن گناہ ہو گیا اس سے۔وہ چیز ہو گئی جو خدا کی نظر میں پسندیدہ نہیں۔تو اللہ تعالیٰ نے بہت جگہ فرما یا بڑا رحم کرنے والا ہوں۔معاف کر دیتا ہوں۔معاف کر دوں گا۔جب انسان صراط مستقیم پر ہی رہے اور جو اس کو اختیار دیا گیا تھا کہ یہ کر یاوہ کراس اختیار میں غلطی کرے تو یہ گناہ کبیرہ نہیں یہ عصیان میں حد سے بڑھنا نہیں۔اس کا ذکر وَلَا تَطْغَوا میں نہیں یعنی جو یہ کہا کہ پھر تم خدا تعالیٰ کے عذاب کے نیچے آ جاؤ گے ایسے گناہ اس کے اندر نہیں آتے بلکہ ایسے جو گناہ ہیں وہ انسان کے جو دوسرے اعمال صالحہ ہیں اس کے اندر چھپ جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا فضل اور رحمت جو ہے اس سے انسان محروم نہیں ہو جا تا لیکن ایک گناہ وہ ہے کہ اسلام کہتا ہے کہ سچ بول، جب