انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 305
۳۰۵ سورة هود تفسیر حضرت خلیفة اسبح الثالث اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ملتی ہے اگر انسان اللہ تعالیٰ پر توکل کرے اور محض اسے اپنا سہارا بنائے تو اللہ تعالیٰ کی توفیق سے وہ ہر قسم کی برائیوں اور بدیوں سے بچ سکتا ہے اور ہر قسم کے اعمال صالحہ میں بجا لانے کی قوت اور طاقت اسے حاصل ہو سکتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے غیر سے یہ چیز حاصل نہیں ہوسکتی۔اس لئے انسان کے دل میں یہ احساس پیدا ہونا چاہیے کہ ایمانیات اور اعمال کے میدان میں مجھے جو بھی توفیق ملے گی وہ اللہ تعالیٰ کے فضل ہی سے ملے گی اس لئے عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ میں صرف اس پر ہی بھروسہ رکھوں گا وَ الَیهِ اُنیب اور بار بار اس کی طرف میں جھکوں گا۔(خطبات ناصر جلد دوم صفحہ ۳۸۹) آیت ۱۱۳ ۱۱۴ فَاسْتَقِمْ كَمَا اُمِرْتَ وَ مَنْ تَابَ مَعَكَ وَلَا ، تَطْغَوا ۖ إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَبُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُونَ ) اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا ہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے، کہ جیسا کہ تجھے حکم دیا گیا ہے وحی کے ذریعہ سے، اس کے مطابق صبر اور استقلال سے کام لو۔اسی طرح وہ لوگ وَمَنْ تابَ مَعَكَ جنہوں نے اس ہدایت، اس تعلیم کو سن کر اُسے مانا اور اپنی گندی زیست کو چھوڑ کے تیرے متبع بن گئے۔تجھے انہوں نے تسلیم کیا اور تاب انہوں نے رجوع کیا اس گندی زیست سے اللہ تعالیٰ کی طرف معك تیرے ساتھ مل کے۔یعنی جس طرح خدا تعالیٰ کا حکم سن کے تو نے اپنی زندگی کے دن گزارے تیرے نقشِ قدم پر چل کر انہوں نے بھی خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کیا۔توبہ کی۔ولا تطغوا اور ماننے والوں کو حکم دیا اللہ تعالیٰ نے یہاں کہ گناہوں میں حد سے نہ بڑھ جانا إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ خدا تعالیٰ تمہارے اعمال پر نظر رکھتا ہے۔کوئی چیز اس کی نگاہ سے چھپی نہیں رہتی۔اگلی آیت میں ہے۔وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا جو ظالم لوگ ہیں۔جو اپنی فطرت کے خلاف، اپنی زندگی کے مقصود کے خلاف جو اسلامی تعلیم کے خلاف، جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کے خلاف عمل کرتے اور ظلم کرتے ہیں۔ان کی طرف نہ جھکنا فتمسكم النَّارُ کہ جب انہیں سزا ملے تو تم بھی اس عذاب کی لپیٹ میں