انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 23 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 23

۲۳ سورة المائدة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث بڑھ کر کسی کامیابی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔فلاح کے معنی عربی میں عظیم کامیابی کے ہوتے ہیں۔یایھا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ اے ایمان کا دعویٰ کرنے والو! ناکامیوں سے بچنے میں اپنی حفاظت کے لئے خدا تعالیٰ کو اپنی پناہ بنا لو اور اس کو اپنی ڈھال بنا لو وَ ابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ اور ڈھال اس طرح بناؤ کہ اس کے قرب کی راہوں کو تلاش کرو۔زبانی دعوؤں سے تو اللہ تعالیٰ کسی کی ڈھال نہیں بن سکتا بلکہ اس کے قرب کی راہیں معین ہیں اور ان معین راستوں کو اختیار کر کے ان راہوں پر چل کر اللہ تعالیٰ انسان کو اس مقام تک پہنچا دیتا ہے جو مقام کہ اس کے قرب کا مقام اور اس کی رضا کا مقام ہے۔وسيلة کے لئے تین طریقے بیان کئے گئے ہیں اور وہ اس مضمون کو ظاہر کرتے اور اس کو نمایاں کرتے ہیں۔وسیلہ کے معنی ہیں خدا تعالیٰ کے قرب کو حاصل کرنا اور اس کے لئے جو راہ اور جو ذریعہ ہے وہ ایک تو علم و معرفت ہے اور دوسرے عبادت ہے اور تیسرے ہے مکارمِ شریعت کو اختیار کرنا۔جیسا کہ دوسری جگہ بتایا ہے علم و معرفت، خدا تعالیٰ کی ذات کو پہچاننا اور اس کی صفات کا عرفان رکھنا بہت ضروری ہے اور پھر اس کے نتیجہ میں جو تقاضے پیدا ہوتے ہیں ان کو پورا کرنے کے لئے عبادت اور مکارم کے لباس میں خود کو ملبوس کرنے کی کوشش کرنا ضروری ہے۔وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ قرب اور وسیلہ کے حصول کے لئے جو راستہ اور سبیل ہے وہ تین قسم کی ہے۔ایک تو صحیح روحانی علم کا حاصل ہونا، معرفت کا حاصل ہونا، دوسرے خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق پر اس کی عبادت کرنا اور تیسرے شریعت حقہ اسلامیہ کے مکارم کو اختیار کرتے ہوئے اپنی روح اور اپنے ذہن اور اپنے عمل اور اپنے عقیدہ میں حسن پیدا کرنے کی کوشش کرنا۔ان تین چیزوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ انسان کی ڈھال بن جاتا ہے اور اسے اپنی حفاظت میں لے لیتا ہے۔اگر انسان کو خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات کی معرفت نہ ہو تو اس نے خدا کو پہچانا ہی نہیں اس لئے اس کے قرب کی راہوں کی تلاش وہ صحیح معنی میں کرہی نہیں سکتا۔اسی لئے آپ کو دُنیا میں ایسے لوگ بھی نظر آئیں گے جو زبان سے تو یہ دعویٰ کر رہے ہوں گے کہ وہ خدائے واحد و یگانہ کی پرستش کرتے ہیں اور اس کی وحدانیت کی معرفت رکھنے والے ہیں لیکن وہی لوگ جب مقبروں میں جاتے ہیں تو قبروں کو سجدہ کرنے لگ جاتے ہیں اور جب اپنے بزرگوں کے پاس جاتے ہیں تو انہیں ارباب سمجھنے لگ جاتے ہیں اور ان کی پرستش شروع کر دیتے ہیں۔ہزار بہت اپنے سینوں میں اُنہوں نے سجائے ہوئے