انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 300 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 300

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث سورة هود یا گروہ پر نازل ہوتے دیکھتے ہیں لیکن انہیں یہ علم کیونکر حاصل ہو کہ ان کا رب ان سے خوش ہو گیا ہے اس بات کا تو تبھی پتہ لگ سکتا ہے جب قرب رحمت خدا تعالیٰ کے قریب اور مجیب ہونے کے جلوے دکھائے۔غرض صرف خدا تعالیٰ کے قریب ہونے کا جلوہ فطرت انسانی کو تسلی نہیں دے سکتا اسی لئے انبیاء علیہم السلام اور ان کی باوفا جماعتوں نے اپنے اپنے زمانہ اور استعداد کے مطابق خدائے قریب ہی کے جلوے نہیں دیکھے تھے بلکہ خدائے مجیب کے جلوے بھی دیکھے تھے اور ان کا اپنے پیدا کرنے والے سے ایک زندہ تعلق پیدا ہو گیا تھا اس کے بغیر وہ قربانیاں دے ہی نہیں سکتے تھے۔اس کے بغیر وہ مقصد حاصل ہی نہیں ہو سکتا تھا جو انبیاء علیہم السلام کی بعثت اور انسان کی پیدائش کا مقصد ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پر نگاہ ڈالیں تو عبودیت کا ایک ایسا سمند ر نظر آتے ہیں جس کا تعلق ہمیں اس خدا سے نظر آتا ہے جو ان کے قریب بھی رہا اور جو مجیب بھی تھا۔یعنی وہ سوال کرتے تھے اور یہ جواب دیتا تھا۔وہ مانگتے تھے اور یہ عطا کرتا تھا۔مجیب کے معنی میں یہ دونوں باتیں آجاتی ہیں یعنی اس سوال کا جواب الفاظ میں بھی دینا اور سوال میں جو بھیک مانگی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ فلاں نعمت مجھے عطا کر۔اس مطلوبہ نعمت کا عطا کرنا جو وہ مانگتے تھے وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی محبت ہی تھی اور جو خدا تعالیٰ انہیں دیتا تھا وہ بھی اس کی رضا اور محبت ہی تھی اور اپنی ساری مخلوق کو اس نے کہا کہ یہ میرے خاص اور محبوب بندے ہیں تم ان کے کام میں لگ جاؤ اور یہ چیز سچے مذہب اور اس کے پیروؤں کی ایک سچی نشانی ہے جو شخص یہ کہتا ہے کہ اسلام کی غرض اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد یہ تھا کہ انسان کا تعلق اس رب سے ہو جائے جو محض قریب ہے مجیب نہیں تو اس نے نہ اسلام کی حقیقت کو پہچانا، نہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کو سمجھا اور نہ مقصد حیات کا اسے کچھ علم ہے۔تمام مذاہب کا یہی مقصد تھا کہ انسان کا تعلق قریب اور مجیب خدا سے ہو جائے لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے یہ مقصد اپنے کمال کو پہنچ گیا یعنی کامل تعلق باللہ جو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے حاصل ہو سکتا ہے۔وہ آپ سے پہلے انبیاء علیہم السلام کی پیروی سے حاصل نہیں ہوسکتا تھا۔آپ کے سچے متبعین سینکڑوں سالوں سے قریب مجیب رب کے جلوے اپنی زندگیوں میں دیکھتے رہے ہیں اور اسی وجہ سے وہ اس پر فدا ہیں اور قیامت تک یہی ہوتا چلا جائے گا۔فطرت انسانی یہ چاہتی ہے اور اس کے بغیر اس کی تسلی نہیں ہو سکتی کہ وہ اپنے ربّ کو اس طرح پہچانے کہ اس کی ذات اور