انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 298 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 298

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث فاصلہ آہستہ آہستہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔۲۹۸ سورة هود پس جس وقت دو Galaxies) کہکشاں) کے درمیان یعنی ستاروں کے ان دو خاندانوں کے درمیان جن کے افراد بے شمار ہیں اور انسان ان کو گن نہیں سکتا تو ان بے شمار ستاروں پر مشتمل دو خاندانوں کے درمیان جب اتنا فاصلہ ہو جاتا ہے کہ ستاروں کا ایک اور خاندان وہاں سما سکے تو اللہ تعالیٰ کے امر اور حکم سے وہاں ایک اور Galaxy ( کہکشاں ) پیدا ہو جاتی ہے۔ستاروں کا ایک اور خاندان پیدا ہو جاتا ہے یہ صحیح ہے کہ اس وقت تک انسانی دماغ نے خواہ اس نے سائنس میں کتنی ہی ترقی کیوں نہ کر لی ہو پھر بھی وہ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کے کناروں پر ہی نگاہ ڈال سکا ہے اور جس طرح انسان اندھیرے میں ٹٹول کر کچھ معلوم کر لیتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کی خلق اور اس کی ربوبیت اور اس کے حسن و احسان کے جو جلوے اس پیدائش کا ئنات میں ہمیں نظر آتے ہیں ان کے متعلق جس طرح آدمی اندھیرے میں ٹول کر کچھ علم حاصل کر لیتا ہے انسان نے اس طرح کا کچھ علم حاصل کر لیا ہے اور جو تھوڑا بہت حاصل کیا ہے اس میں ایک چیز یہ بھی آجاتی ہے کہکشاں وغیرہ۔( خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۱۰۰۰،۹۹۹) آیت ٦٢ وَ إِلى ثَمُودَ أَخَاهُمُ صلِحًا قَالَ يُقَوْمِ اعْبُدُوا اللهَ مَا لكُم مِّنْ إِلَهِ غَيْرُهُ هُوَ اَنْشَاَكُم مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكُم فَاسْتَغْفِرُوهُ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ إِنَّ رَبِّي قَرِيبٌ مُّجِيبٌ۔جب اللہ تعالیٰ انسان سے پیار کرنے کے لئے اس کے قریب آ جاتا ہے اور اسے اپنا دوست بنالیتا ہے اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہے اور اس کے لئے دنیا میں انقلابات عظیمہ پیدا کرتا ہے جو دنیا کے دلوں میں تبدیلی پیدا کر کے انہیں غلاموں کی طرح دوڑاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی طرف بھیج دیتے ہیں۔اس قرب کے مختلف مدارج ہیں اور اس کی ایک بڑی نشانی یہ ہے کہ اس قسم کا قرب پانے والے انسان پر صرف اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے کے جلوے ہی ظاہر نہیں ہوتے بلکہ اس پر اس کے مجیب ہونے کے جلوے بھی ظاہر ہوتے ہیں۔پس یہ قرب اللہ تعالیٰ کی رحمت کا قرب ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی قریب اور مجیب صفات کے جلوؤں کا قرب ہے یعنی اللہ تعالیٰ انسان کے قریب بھی ہوتا ہے اور یہ بھی