انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 297
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۹۷ سورة هود اعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة هود آیت ۸ وَهُوَ الَّذِى خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَ كَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُم اَحْسَنُ عَمَلًا وَ لَبِنْ قُلْتَ إِنَّكُمْ مبْعُوثُونَ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ لَيَقُولَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَذَا إِلَّا سِحْرُ مبين دو، جب یوم کے لفظ سے زمانے کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے تو اس میں اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرتوں اور عظمتوں اور اس کے جلال اور اس کی صفات کے مختلف جلوؤں کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمایا ہے کہ اللہ نے زمین اور آسمان کو بستة آیا م یعنی چھ زمانوں میں زمین اور آسمان کو پیدا کیا ہے یہاں یو م سے مراد وہ دن نہیں جو ہر روز ہم پر طلوع ہوتا ہے بلکہ ایک زمانہ مراد ہے اور ہر چیز کی پیدائش کے لئے ایک زمانہ مقدر ہوتا ہے مثلاً بچہ کی پیدائش کے لئے نو ماہ کا زمانہ ہوتا ہے۔اس عالمین کی یا اس کے اندر جو Galaxies) کہکشاں ) ہیں ان کی پیدائش کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک بڑا لمبازمانہ مقرر کر دیا ہے بعض سائنسدانوں کا یہ خیال ہے کہ ستاروں کے مختلف خاندان جو بے شمار ستاروں پر مشتمل ہوتے ہیں جن کو انگریزی میں Galaxy ( کہکشاں ) کہتے ہیں ان کا آپس میں ایسا تعلق ہے ایک مربوط تعلق پایا جاتا ہے کہ ان ستاروں کا سارے کا سارا جمگھٹا اکٹھا ایک جہت کی طرف بھی حرکت کر رہا ہے اور ساتھ والی دائیں بائیں یا اوپر نیچے جو دوسری Galaxies) کہکشاں ) ہیں وہ بھی ایک خاص جہت کی طرف حرکت کر رہی ہیں اور ان کا درمیانی