انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 291
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۹۱ سورة يونس تم صبر کے ساتھ انتظار کرو۔ہو گا وہی جو خدا نے چاہا اور پسند کیا۔ہوگا وہی جس کا اللہ نے فیصلہ کر دیا ہے لیکن ہو گا وہ اپنے وقت پر۔اس واسطے بے صبری نہ دکھاؤ۔صبر سے کام لو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ فیصلہ کرے۔وَهُوَ خَيْرُ الحكمين اور بہترین فیصلہ وہی کیا کرتا ہے۔دنیا فیصلے کرتی اور اس کے فیصلے ٹوٹ جاتے ہیں۔دنیا کا میابیوں کی خواہش رکھتی اور ناکامیوں اور نامرادیوں کا منہ دیکھتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کا فیصلہ کر دیتا ہے تو وہ خَيْرُ الحکمین جو فیصلہ کرتا ہے وہی ہوتا ہے لیکن ہوتا اس وقت ہے جو اس فیصلے کے ہونے کے لئے مقدر ہو۔تمہیں بشارتیں دی گئی ہیں۔اپنے وقت پر پوری ہوں گی لیکن تمہیں صبر سے انتظار کرنا پڑے گا۔تمہیں صبر کے ساتھ امتحانات میں سے گزرنا پڑے گا۔مصائب کو برداشت کرنا پڑے گا مخالف کے منصوبوں اور سازشوں کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔ہوائے نفس سے بچنا پڑے گا۔نفس کو مارنا پڑے گا خدا کے لئے موت کو اختیار کرنا پڑے گا تا تمہیں ایک نئی زندگی ملے اور احکامِ شریعت پر سختی کے ساتھ پابند رہنا پڑے گا۔یہ کرنا پڑے گا اگر تم نے ان بشارتوں کا وارث اور حامل بننا ہے تو وَاصْبِرُ حَتَّى يَحْكُم الله صبر سے کام لو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہو جائے اور فیصلے کا اجراء ہو جائے اور وہ خیر الحکمین ہے اس کے فیصلوں کے وقت کی تعیین وہی جانتا ہے اور اس کے فیصلے حق و حکمت سے پُر ہوتے ہیں اور بھلائی سے معمور ہوتے ہیں۔19191 (خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۵۰۹) وہ جو پہلے میں نے سوال دہرایا تھا نا اب اس موقع پر میں دہرا رہا ہوں کہ ایسا کیوں ہے کہ آپ اُسوہ ہیں اور آپ کی اتباع کئے بغیر اللہ تعالیٰ کا پیار ہمیں حاصل نہیں ہوسکتا۔قرآن کریم نے اسے بڑی وضاحت سے بیان کیا ہے۔سورہ یونس میں حکم ہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وَاتَّبِعْ مَا يُوحَى إِلَيْكَ اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہ جو تیری طرف میری وحی نازل ہو رہی ہے اس کی کامل اتباع کر۔اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے۔واصبر اور استقامت سے مضبوطی کے ساتھ ،صبر کے ساتھ اس پر قائم ہو جا۔کوئی غیر مسلم کہ سکتا ہے حکم ہے۔یہ تو نہیں کہیں ہوا کہ اس حکم کو آپ بجا بھی لائے۔سورہ اعراف میں ہے قل اعلان کر دو۔یہ خدا تعالیٰ نے جو دیکھا اس کا اعلان کروایا ہے۔یعنی خدا تعالیٰ نے حضرت محمد