انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 272 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 272

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث اور دلوں کو نرم کرنے والا ہوتا ہے۔۲۷۲ سورة يونس دوسرے یہ فرمایا کہ یہ کتاب شِفَاء لِمَا فِي الصُّدُورِ ہے۔جو بیماریاں سینہ و دل سے تعلق رکھتی ہیں اس کتاب میں ان تمام بیماریوں کا علاج پایا جاتا ہے اور جو نسخے یہ کتاب تجویز کرتی ہے ان کے استعمال سے دل اور سینہ کی ہر روحانی بیماری دور ہو جاتی ہے۔تیسری بات جو قرآن کریم کے متعلق یہاں بیان فرمائی ہے۔وہ ھڈی ہے۔یعنی اس کی تعلیم ہدایت پر مشتمل ہے۔وہ ان راہوں کی نشان دہی کرتا ہے۔جو اس کے قرب تک پہنچانے والی ہیں اور منزل بہ منزل بہتر سے بہتر ہدایت ان کی طاقت و استعداد کے مطابق ان کو عطا فرماتا ہے اور ہدایت کرتا چلا جاتا ہے حتی کہ بندہ اپنے اچھے انجام کو پہنچ جاتا ہے۔وہ اپنی جنت اور اپنے رب کی رضا کو حاصل کر لیتا ہے۔چوتھی بات قرآن کریم کے متعلق یہاں یہ بتائی گئی ہے کہ ایمان والوں کے لئے یہ رحمت کا موجب ہے یعنی جو لوگ بھی قرآن کریم کی بتائی ہوئی ہدایت پر عمل کرتے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ جو بڑا احسان کرنے والا اور بڑا رحم کرنے والا ہے اپنی رحمت کی آغوش میں لے لیتا ہے۔پہلی بات جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے قرآن کریم کے متعلق یہ بتائی گئی ہے کہ یہ مَوْعِظَةٌ ہے۔مَوْعِظَةٌ یا وعظ کے عربی زبان میں معنی ہوتے ہیں۔ایسی نصیحت جو جزا وسزا اور ثواب و عقاب کو اس طرح بیان کرنے والی ہو کہ اس سے دل نرم ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ اور رجوع کریں اور ان میں یہ خواہش پیدا ہو کہ دنیا کی ہر چیز کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہی میں لگ جائیں۔اللہ تعالیٰ نے سورۃ بقرہ میں فرمایا ہے کہ ہم جو وعظ کرتے ہیں اور جس کا ذکر ہم نے قرآن کریم کے متعلق کیا ہے وہ یہ ہے وَمَا أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنَ الْكِتَبِ وَالْحِكْمَةِ يَعِظُكُمْ بِه (البقره: ۲۳۲) کہ ہم نے محض ” الکتاب“ ہی نہیں اتاری اور صرف کامل ہدایتیں ہی اس میں ہم بیان نہیں کرتے بلکہ ہم ان کی حکمتیں بھی بیان کرتے ہیں۔ہر ہدایت کی وجہ بھی بتاتے ہیں، اس کے نتائج پر بھی روشنی ڈالتے ہیں۔ہم تمہارے سامنے ایک تصویر لا رکھتے ہیں کہ وہ لوگ جو ہماری ہدایات سے منہ موڑتے ہیں ان کے ساتھ ہمارا کیا سلوک ہوتا