انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 271
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۷۱ سورة يونس اور اس وحی سے ہمیں ایک بات جس کا اب میں ذکر کر رہا ہوں یہ معلوم ہوئی کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ جو رب العالمین ہے اس کے علاوہ کسی پر تو گل کرنے والے نہیں تھے اور کسی کی احتیاج محسوس کرنے والے نہیں تھے بلکہ یہ اعلان کرنے والے تھے اپنے متبعین، اتباع کرنے والوں کو مُؤْمِنُونَ حَقًّا ، جنہیں قرآن کریم نے کہا ہے کہ میری طرح تم بھی خدائے واحد و یگانہ، رب العالمین پر توکل کرو اور ہر چیز اس سے مانگو۔یہ عملی زندگی میں خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔عملی زندگی میں زندہ خدا سے زندہ تعلق ہم کہتے ہیں، پیدا کرو یہ ہے۔ہر چیز اس سے مانگو۔(خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۲۶۳، ۲۶۴) آیت ۵۹٬۵۸ يَايُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَ تَكُم مَّوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَ شفَاء لِمَا فِي الصُّدُورِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَ بِرَحْمَتِهِ فَبِلْ لِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ۔اے وے تمام لوگو! جو اس دنیا میں بستے ہو یا مستقبل میں اس دنیا کو بساؤ گے تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے یقیناً ایک ایسی کتاب آ گئی ہے جو سراسر نصیحت ہے اور شفاء لما في الصدور وہ ہر اس بیماری کے لئے جو شیطان سینوں میں پیدا کر سکتا ہے شفا دینے والی ہے اور ایمان لانے والوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔تو اُن سے کہہ دے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے وابستہ ہے۔پس اس پر انہیں خوشی منانا چاہیے۔جو کچھ دنیا کے اموال اور اس کی لذتیں اور اس کی وجاہتیں اور اس کے اقتدار میں سے وہ جمع کر رہے ہیں ان سے یہ نعمت جو اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے فضل سے عطا کی ہے کہیں زیادہ بہتر ہے۔اس آیت میں قرآن کریم کے متعلق چار باتیں بیان کی گئی ہیں۔ایک یہ کہ قرآن کریم کی تعلیم مَوْعِظَةٌ ( نصیحت ) ہے اور اللہ تعالیٰ جس رنگ میں جن لوگوں کی گرفت کرتا ہے اور اپنے قہر اور غضب کا انہیں مورد ٹھہراتا ہے اور جس رنگ میں جن لوگوں پر اپنا فضل فرماتا ہے اور انہیں اپنی خوشنودی کے عطر سے ممسوح کرتا ہے۔ان کے واقعات ایسے رنگ میں بیان فرماتا ہے جو دلوں پر اثر کرنے والا