انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 270 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 270

۲۷۰ سورة يونس تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث اسی لئے دوسری جگہ یہ بھی فرمایا تھا کہ قُلْ اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ العلمينَ۔(الانعام : ۱۶۳) کہ کامل اطاعت کرنی ہے۔نماز ہے۔دوسری قربانیاں ہیں۔زندگی کا ہر پہلو ہے۔موت کی ہر شکل ہے۔یہ اللہ رب العلمین کے لئے ہے یعنی میری ہر حرکت اور میرا ہر سکون اس لئے ہے کہ میرا تعلق ربوبیت رَبِّ العلمین کے ساتھ قائم اور پختہ رہے کیونکہ اگر وہ تعلق کٹ گیا تو پھر میں ہدایت نہیں پاسکتا اس کی طرف۔لَا شَرِيكَ لَه اس کا کوئی شریک نہیں۔توحید خالص پر میں قائم ہوں اور مجھے اسی امر کا حکم دیا گیا ہے اور میں مقدور بھر اطاعت کرتا ہوں۔یہ عملی نمونہ ہے میرا۔میرے پیچھے چلو۔کہنے والا تو ایک ہی تھا، میرے پیچھے چلو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔آپ کے منہ سے آپ کی حقیقت خدا تعالیٰ نے یہ بیان کی اِن اَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَى جو وحى الهى اللہ تعالیٰ کی طرف سے میری اور نوع انسانی کی بھلائی کے لئے نازل ہوئی میں صرف اس وحی کی اتباع کرتا ہوں اور تم ؟ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ (ال عمران: ۳۲) اگر تمہارے دل میں اللہ کی جو رب العالمین ہے، محبت ہے اور چاہتے ہو کہ وہ بھی تم سے پیار کرے فَاتَّبِعُونی میری اتباع کرو۔کس چیز میں اتباع کرو؟ وہی جو دوسری جگہ ہے اِن اَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى اِلی میں صرف اس وحی الہی کی اتباع کرتا ہوں جو مجھ پر اللہ نے نازل کی ہے اور تم میری اتباع کرتے ہوئے صرف اس وحی کی اتباع کرو جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر نازل کی اور اس کے علاوہ ہلاکت ہے۔اِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيم یاد رکھو جو اس وحی کو چھوڑتا وہ اپنے لئے ہلاکت ، نا کامی ، بدامنی ، خوف، بے اطمینانی کے سامان پیدا کرتا ہے اس زندگی میں بھی اور آخری زندگی میں، اُخروی زندگی میں بھی۔(خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۳۱۳، ۳۱۴) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے یہ اعلان کروایا ) اِن اَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى الى جو وحی مجھ پر نازل ہو رہی ہے میں صرف اس کی اتباع کرتا ہوں اور جس وقت ہمیں کہا گیا کہ آپ کی اتباع کرو تو اس کے یہ معنی ہو گے کہ جس طرح حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم صرف اس وحی کی اتباع کر رہے ہیں جو آپ پر نازل ہو رہی ہے۔اس لئے ہر سچے مومن کا فرض ہے کہ صرف اس وحی کی اتباع کرے جو آپ پر نازل ہو رہی ہے۔