انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 268
۲۶۸ سورة يونس تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث اور دوسرا انسانوں کے ساتھ تعلق رکھنے والا عمل ہوگا اور وہ یہ ہوگا۔تَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلم ان کے لئے دعائیں کرنا۔یہ دعا کرنا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمتیں اور اس کے پیار کے جلوے پہلے سے زیادہ نازل ہوں تم پر ایک دوسرے کے لئے دعا کر رہے ہوں گے۔یہ نہیں ہوگا کہ انسان مرنے کے بعد جس جنت میں جائے گا جب وہ وہاں سُبْحَانَ الله - اللهُ أَكْبَرُ - اَلْحَمْدُ لِلَّهِ کہے گا تو خدا تعالیٰ اس دنیا میں تو بعض انسانوں کو کہتا ہے کہ تم زبان سے سُبحان اللہ کہہ رہے ہو گر تمہارا عمل بتارہا ہے کہ تم خدا تعالیٰ میں ہزار عیب بھی دیکھ رہے ہو حالانکہ خدا تعالیٰ میں تو کوئی عیب نہیں ہے۔وہ تو ہر لحاظ سے ہر پہلو سے ہر جہت سے اوپر نیچے ظاہر وباطن ہر لحاظ سے پاک ہے پاکیزگی کا سرچشمہ ہے لیکن تم خدا تعالیٰ کو ایک ہی زبان سے رازق بھی کہہ رہے ہوتے ہو اور اسی زبان سے تم لوگوں سے مانگ بھی رہے ہوتے ہو۔تم خدا تعالیٰ کو رازق سمجھتے ہوئے۔رشوت دینے کے لئے بھی تیار ہو جاتے ہو لیکن اس قسم کا نقص اور خامی جنت کی دعاؤں میں نہیں ہوگی کہ جس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کی تسبیح اور تحمید بھی رڈ کر دی جاتی ہے بلکہ پاک زبانوں سے پاک خدا تعالیٰ کی پاک حمد کے ترانے نکلیں گے۔جو خدا تعالیٰ کو پیارے لگیں گے اور اس کے نتیجے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر روز جنتی ان اعمال مقبولہ کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کے پیار کو پہلے دن سے زیادہ حاصل کرنے والے ہوں گے۔تو وہاں عمل ہے لیکن یہ خطرہ نہیں کہ ناکام ہو جائیں گے۔خطرات سے پاک عمل جنت میں بھی ہیں۔دعا ئیں ہیں جس کی مثال یہاں دی گئی ہے۔لیکن وہ لوگ لا يَرْجُونَ لِقلونا کے دائرے کے اندر آتے ہیں وہ تو جس طرح پہلے میں بتا چکا ہوں ان کی کیفیت قرآن کریم نے کیا بیان کی ہے وہ تو اس نعمت سے بھی محروم ہوں گے نا۔سزا بھگتیں گے۔اللہ تعالیٰ معاف کرے ہر ایک کو ، بڑا سوچا ہے ایک لحظہ کا بھی خدائی قہر جو ہے وہ انسان برداشت نہیں کر سکتا لمبا عرصہ تو علیحدہ رہا۔(خطبات ناصر جلد ہشتم صفحه ۵۴۱ تا ۵۵۰)