انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 266
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۶۶ سورة يونس يَهْدِيهِمْ رَبُّهُمْ بِايْمَانِهِمْ جس معنی میں یہاں ایمان کا لفظ استعمال ہوا ہے وہ لوگ جو اس معنی کے لحاظ سے ایمان کے ہر پہلو کے لحاظ سے مومن ہیں اللہ تعالیٰ کامیابی کی راہ پر انہیں آگے ہی آگے بڑھاتا چلا جاتا ہے يَهْدِيهِمْ یعنی یہاں یہ بات بتائی گئی ہے کہ انسان ایک وقت میں نیک کام کرنے والا ، مناسب حال کام کرنے والا بھی ہے لیکن جو آج کے بعد میں سالہ اس نے زندگی گزاری کسی وقت میں وہ ٹھو کر بھی کھا سکتا ہے۔یہ بھی اس کے ساتھ لگا ہوا ہے اس واسطے خدا تعالیٰ کی ہدایت کے بغیر ہم اپنے بہتر خیر خاتمہ تک نہیں پہنچ سکتے۔اس کی یہاں بشارت دی کہ تم ایمان اور عمل صالحہ پر قائم رہو۔خدا تعالیٰ تمہارا خاتمہ بالخیر کرنے کا سامان پیدا کر دے گا۔يَهْدِيهِمْ رَبُّهُمْ بِأَيْمَانِهِمْ تمہارا خاتمہ بالخیر ہوگا یعنی آخری سانس تک تم خدا تعالیٰ کے دامن کو مضبوطی کے ساتھ اپنے ہاتھ میں تھامے رکھو گے تم خدا کے اخلاق اپنے اخلاق پر چڑھا کے زندگی گزارنے والے ہو گے تم فانی فی اللہ اور فانی فی محمد کی حیثیت میں اپنے اپنے دائرہ استعداد میں اپنی زندگیوں کے اوقات گزار نے والے ہو گے۔تم پر خدا تعالیٰ یہ فضل کرے گا۔اپنی کوشش سے انسان ایسا نہیں کر سکا۔یہ جو عمل ہے اس میں مثلاً ہم کسی کو عمل صالح کسی کو اس کا حق دیتے ہیں مال کے لحاظ سے کوئی ایسا طالب علم ہو نہار آ جاتا ہے جس کا ہم وظیفہ مقرر کرتے ہیں۔اس کا حق خدا نے قائم کیا ہے۔یہ بھی عمل صالح ہے اور خدا تعالی کی تسبیح وتحمید کرنا اس کی کبریائی بیان کرنا اور اس کے جلال اور اس کی جو عظمت ہے اس کا ہر وقت اپنے ذہنوں میں تصور رکھنا اور دنیا کے سامنے اس کی عظمت و جلال کو پیش کرنا اس کے حسن کے جلووں سے واقفیت حاصل کرنے کی کوشش کرنا دعاؤں کے ذریعے۔تو دعا بھی عمل میں شامل ہے۔اسی واسطے حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ جس شخص نے کامیاب ہونا ہو وہ تد بیر کو بھی اپنی انتہا تک پہنچائے جو ظاہری چیز ہے اور دعا کو بھی اپنی انتہا تک پہنچائے۔جب دعا اور تدبیر دو مختلف چیزیں چلتی چلتی ایک نقطے پر اکٹھی ہو جاتی ہیں۔نقطہ کمال پر تب اللہ تعالیٰ فضل کرتا اور دعا کو قبول کرتا اور تدبیر میں اپنی رحمت سے ایسے سامان پیدا کرتا ہے کہ کامیاب ہو جاتا ہے۔انسان يَهْدِيهِمْ رَبُّهُمْ بِأَيْمَانِهِم اس ایمان میں دعا شامل ہے دعا بھی عمل صالح ہے اللہ اکبر کہنا اور سُبحان اللہ کہنا خدا تعالیٰ کی صفات کا ورد کرنا یہ سب دعاؤں میں شامل ہیں۔تو جو شخص دعاؤں میں لگا رہتا ہے (ایمان میں وہ بھی ہے ) اور دوسرے احکام بھی بجالاتا ہے