انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 262 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 262

تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۲۶۲ سورة يونس رضا کے حصول کے ساتھ تعلق ہے نا۔ان کا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں فنا ہو جانے کے ساتھ تعلق ہے نا۔ان کا تو ان راہوں پر چلنے سے تعلق ہے جن راہوں پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم ہمیں نظر آئیں۔ان کا تعلق تو اس خاتمہ پر ہے، خاتمہ بالخیر پر جس کی طرف قرآن کریم نے صراط مستقیم کے ذریعے ہدایت دی۔ان کا تعلق تو ان جنتوں سے ہے جن جنتوں کی وسعت زمانی و مکانی جن جنتوں کی وسعت اپنی نعماء کے لحاظ سے، جن جنتوں کی وسعت خدا تعالیٰ کے پیار کے لحاظ سے اتنی زیادہ ہے کہ دنیا اس کے مقابلے میں ایک حقیر ذرے سے زیادہ کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔وَ اطْبَانُوا بِهَا لیکن یہ لوگ بد قسمت دنیاوی زندگی پر اطمینان پکڑ لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ دنیوی زندگی کے علاوہ کچھ اور حاصل کیا ہی نہیں جاسکتا۔مزید ترقیات کا خیال وہ ترک کر دیتے ہیں۔دنیا دار دنیا پر ٹھہر جاتا ہے۔اطمینان پکڑ لیتا ہے۔اس سے کہیں بہتر احسن ارفع ترقیات کو نظر انداز کر دیتا ہے اس کے لئے کوششیں ترک کر دیتا ہے۔اور یہ جو رَضُوا بِالْحَیوۃ الدنیا ہے راضی ہو گیا یہ پورے کا پورا راضی ہو جاتا ہے۔اس میں پھر کسی اور رضا کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔یہ وقتی نہیں ہے رَضُوا بِالْحَيَوةِ الدُّنْيَا بلکہ اپنے نزدیک وہ سب کچھ یہی سمجھتے ہیں اور اپنی ہلاکت کا سامان پیدا کرتے ہیں۔چوتھی بات یہاں یہ بتائی وَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ ابْتِنَا غُفِلُونَ - لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا - رَضُوا بِالْحَيَوةِ الدُّنْيَا - اطمَانُوا بِهَا کالازمی نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اپنی رحمت سے جو اپنی آیات نازل کیں اس معنی میں بھی کہ قرآن کریم میں تمام وہ آیات آ گئیں کہ جو تعلیم کے لحاظ سے شریعت کے لحاظ سے ہدایت کے لحاظ سے اپنے کمال کو پہنچی ہوئی ہیں اور اس لحاظ سے بھی کہ قرآن کریم پر عمل کرنے کے نتیجہ میں انسان اللہ تعالیٰ کی ان آیات کے مشاہدے کرتا ہے کہ جوتعلیم میں نہیں بلکہ اس کائنات میں نشان ، آسمانی نشان جو خدا تعالیٰ کی محبت ظاہر کرتے ہیں، وہ آسمانی نشان جو وہ اپنے بندوں کے لئے بطور مدد اور نصرت کے بھیجتا ہے ، وہ آسمانی نشان جوان لوگوں پر قہر کی تجلی کی صورت میں آسمان سے اترتے ہیں جو اس کے پیاروں کو ستانے والے ہیں ، وہ آسمانی نشان جن سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین کی دنیا اور آسمان بھر پور اور معمور ہے اتنی کثرت سے نشان ، اتنے عظیم