انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 263 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 263

۲۶۳ سورة يونس تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث نشان، ظاہری نشان ، باطنی نشان، تعلیم کے لحاظ سے نشان، معجزات کے لحاظ سے نشان، خدا تعالیٰ کے پیار کے جلوے، ان سے غافل۔یہ لازمی نتیجہ نکلا اس کا۔اور اس غفلت کے نتیجہ میں نشان تو جھنجھوڑتے ہیں چاہے وہ انذاری نشان ہوں خواہ وہ تبشیری نشان ہوں خواہ وہ تعلیمی نشان ہوں خواہ وہ حسن ہو ہدایت اور شریعت کا خواہ وہ کمال ہو اصول شریعت کا خواہ وہ روشن راہ ہو جس کے اوپر چلنے کی ہمیں ہدایت دی گئی ہے خواہ وہ نور ہو جو خدا تعالیٰ کے بندوں کو ملتا اور ان کی راہنمائی کرتا ہے جب ہر چیز سے محروم ہو گئے اپنے پہ ہدایت کے دروازے بند کر لئے۔وَالَّذِينَ هُمْ عَنْ أَيْتِنَا غُفِلُونَ۔لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ نشانات کے دیکھنے سے آنکھیں اندھی، نشانات پڑھنے سے زبان بے حرکت، زبان حرکت کرتی ہے تو ہم پڑھتے ہیں نا۔نشانات سننے سے کان بہرا، نشانات سمجھنے سے دماغ میں فراست اور ذہانت کی بجائے حمق بھرا ہوا ہے۔نشانات کے اجتماعی اثر کو قبول نہ کرنا اس لئے کہ صحن سینہ نور نُور السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ سے بھرا ہوا نہیں بلکہ شیطانی ظلمات سے اندھیرا ہی اندھیرا ہے وہاں۔تو یہ ایک گروہ ہے جس کا نقشہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ یونس کی اس آیت میں کھینچا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوگا۔مَا وَهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ گناہ کے بعد انہوں نے تو بہ نہیں کی۔پشیمان نہیں ہوئے اپنی غفلتوں پر بلکہ کسب کے معنی ہیں جمع کرنے کے بھی یعنی تو بہ کا فقدان۔تو بہ جو ہے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو تو بہ کرتا ہے وہ ایسا ہی ہے جس سے گناہ سرزد ہی نہیں ہوا تختی اس کی صاف ہو جاتی ہے لیکن یہاں یہ ہے کہ نہ پشیمانی ، نہ احساس گناہ ، نہ تو بہ، نہ خدا سے مغفرت کا چاہنا۔گناہ پر گناہ جمع ہونا شروع ہو گیا۔کسب گناہ کیا۔عربی میں اسے ہم کسب گناہ کہیں گے اور جب گناہوں کا پلڑا بھاری ہو گیا نیکیوں سے۔ہر گناہ گار بھی کوئی نہ کوئی نیکیاں بھی کر رہا ہوتا ہے اپنی زندگی میں، کتے کو روٹی دے دی۔جہاں سو جھوٹ بولے وہاں پچاس ساٹھ سچ بھی بول دیئے لیکن یہاں يكسبون کسب گناہ اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ ان کی نیکیاں کم وزن ان کے گناہ بڑے وزن والے۔تو بہ انہوں نے کی نہیں۔پشیمانی کے آثار ظاہر نہیں ہوئے۔اللہ تعالیٰ سے مغفرت چاہی نہیں۔خدا تعالیٰ نے ان کی تو بہ کو قبول نہیں کیا۔ساری زندگی ایک کے بعد دوسرا گناہ جمع ہوتا رہا۔اس لئے النار نار جہنم وہ ان کا ٹھکانہ ہے۔جو خدا تعالیٰ کے پیار سے اپنی روح میں جلا پیدا نہیں کر سکے اللہ تعالیٰ