انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 261 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 261

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۶۱ سورة يونس میں رکھتے ہیں لیکن سمجھتے ہیں کہ زندگی اسی دنیا کی زندگی ہے مریں گے سب کچھ ختم ہو جائے گا اخروی زندگی نہیں۔اُخروی زندگی کے ساتھ جن دو چیزوں کا تعلق ہے دوزخ اور جنت وہ بھی نہیں۔اُخروی زندگی کی جنتوں کے لئے جن اعمالِ صالحہ کی ضرورت ہے ان کے بجالانے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ وہ ہے ہی نہیں۔اُخروی دوزخ سے بچنے کے لئے جن بداعمالیوں سے پر ہیز کرنے کی ضرورت ہے وہ بھی بے فائدہ ہے کیونکہ نہ اُخروی زندگی نہ اُخروی سے تعلق رکھنے والی کوئی جہنم الَّذِينَ لا يَرْجُونَ لِقَلونا کا فقرہ ان سب قسم کے دماغوں پر حاوی ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ دماغ اس دنیا میں جو زندگی گزارتے ہیں اس کا نقشہ یہ ہے۔رَضُوا بِالْحَيوةِ الدُّنْيَا وہ دنیا پر اکتفا کر لیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی محبت سے ان کے دل خالی ہوتے ہیں۔دنیا ہی دنیا ہے۔جھوٹ بول کے ملے لے لو۔چوری کر کے ملے لے لو۔ڈاکہ مار کے ملے لے لو۔دھوکہ دے کے ملے فریب سے ملے لے لو۔تول کم کر کے ملے لے لو۔ملاوٹ چیزوں میں کر کے پیسے ملیں لے لو۔دوسروں کی جیب کتر کے ملیں لے لو۔پانی ملا دو اور وزن زیادہ کر دو کمالو د نیا۔روئی کے بنڈل بناؤ اس کے اندرا اینٹیں ڈال دو کرلو۔یہ دنیا ہے۔رَضُوا بِالْحَيوةِ الدُّنیا دنیا پر اکتفا کر لیتے ہیں۔محبت الہی سے دل ان کا خالی ہوتا ہے اُخروی زندگی کی نعمتوں کا کبھی خیال آہی نہیں سکتا۔ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيوةِ الدُّنْيَا (الكهف: ۱۰۵) ساری کوششیں اس ورلی زندگی کے اندر ہی گھومتی اور ضائع ہو جاتی ہیں۔زمین کی طرف جھکتے ہیں وہ لیکن ان رفعتوں کی طرف ان کی پرواز نہیں جن رفعتوں کو اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے بنایا اور جن رفعتوں کے حصول کے لئے خدا تعالیٰ نے اپنے انبیاء کے ذریعہ سے ہدایت دی۔جن کا پانا انسان کے لئے آسان کردیا کیونکہ اپنی سمجھ اور عقل کے ساتھ ان رفعتوں کے حصول کی راہیں اس پر روشن نہیں ہو سکتی تھیں۔زمین کی طرف جھکتے ہیں ان رفعتوں میں پرواز کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول سے بے رغبتی برتتے ہیں۔ساری کی ساری زندگی اس گندی دنیا، بے وفا دنیا کے لئے ہے۔اور اس کے ساتھ اظہا نوا بھا تیسری بات یہ بتائی کہ یہ لوگ مطمئن بھی ہو جاتے ہیں یعنی دنیا کے حصول کے بعد کسی اور اس سے بہتر چیز کے حصول کی طرف ان کی توجہ پھر ہی نہیں سکتی۔مزید ترقیات کا خیال ان کو ترک کرنا پڑتا ہے۔دنیوی ترقیات کے علاوہ جو مزید ترقیات ہیں ان کا تو روحانی ترقیات سے تعلق ہے نا۔ان کو تو اللہ تعالیٰ کا پیا مل جانے کے ساتھ تعلق ہے نا۔ان کا تو اللہ تعالیٰ کی