انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 260
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۲۶ سورة يونس آیت ۸ تا ۱۱ إِنَّ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا وَ رَضُوا بِالْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَ اطْمَاتُوا بِهَا وَالَّذِينَ هُمْ عَنْ أَيْتِنَا غُفِلُونَ لا أُولَبِكَ مَا وَلَهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ يَهْدِيهِمْ رَبُّهُمْ بِأَيْمَانِهِمْ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهُرُ فِي جَنَّتِ النَّعِيمِ دَعْوبُهُمْ فِيهَا سبحْنَكَ اللَّهُمَّ وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَمُ وَأَخِرُ دَعْوبُهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ج العلمين جو لوگ ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے اور اس ورلی زندگی پر راضی ہو گئے اور اس پر انہوں نے اطمینان پکڑ لیا ہے اور پھر جو لوگ ہمارے نشانوں کی طرف سے غافل ہو گئے۔ان سب کا ٹھکانا ان کی کمائی کی وجہ سے یقینا دوزخ کی آگ ہے۔إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے مناسب حال عمل کئے۔انہیں ان کا رب ان کے ایمان کی وجہ سے کامیابی کے راستہ کی طرف ہدایت دے گا اور آسائش والی جنتوں میں انہی کے تصرف کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ان جنتوں میں خدا کے حضور ان کی پکار یہ ہو گی۔اے اللہ تو پاک ہے اور ان کی ایک دوسرے کے لئے دعا یہ ہوگی کہ تم پر ہمیشہ کے لئے سلامتی ہوا اور سب سے آخر میں بلند آواز سے یہ کہیں گے کہ اللہ ہی سب تعریفوں کا مستحق ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ان آیات میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں ایسے انسان بھی بستے ہیں۔الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا جو ہمارے انعامات کی امید نہیں رکھتے ایسے انسان بھی بستے ہیں جو ہمارا خوف اور ہماری خشیت اپنے دلوں میں نہیں رکھتے۔لا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا یہ فقرہ بہت سی باتیں بتاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا انکار کرنے والے یعنی دہر یہ جو ہیں وہ بھی خدا سے امیدیں نہیں رکھتے۔جو لوگ خدا کا ایک مبہم سا تصور اپنے ذہنوں میں پاتے ہیں۔ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ اللہ ہے تو سہی لیکن اتنی عظیم ہستی ! اس کو کیا ضرورت پڑی کہ ہم حقیر لوگوں سے ذاتی محبت کا تعلق رکھے۔انگریزی میں اسے وہ کہتے ہیں امپرسنل گاڈ (Impersonal God) یعنی ایسا خدا جو ذاتی تعلق اپنی مخلوق سے نہیں رکھتا۔اس کی طرف بھی الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَلونَا اشارہ کرتی ہے۔پھر وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کی ہستی کا مبہم سا تصور اپنے دماغ