انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 259 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 259

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۵۹ سورة يونس اعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تفسیر سورۃ یونس آیت ۶ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءَ وَالْقَمَرَ نُورًا وَ قَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعلَمُوا عَدَدَ السّنِينَ وَالْحِسَابَ مَا خَلَقَ اللَّهُ ذَلِكَ إِلَّا بِالْحَقِّ يُفَصِّلُ الأيتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ کہ تمام کارخانہ عالم وقت کے ساتھ بندھا ہوا ہے عدد السنينَ وَالْحِسَابَ ہے نا کہ یہ کائنات یہ دنیا یہ عالمین جو وقت کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرتوں کا یہ جلوہ دکھایا ہے۔مَا خَلَقَ اللَّهُ ذَلِكَ إِلَّا بِالْحَقِّ۔میں نے بتایا ہے یہ مضمون بڑا وسیع ہے میں اس میں سے ایک چھوٹا سا ٹکڑا لے رہا ہوں کہ انسان کی بدلی ہوئی حالت کے مطابق اللہ تعالیٰ کا اس کے ساتھ سلوک ہوتا ہے۔حق کے معنے ہی یہ ہوتے ہیں یعنی موافقت کے۔انسان جب ایک سال ترقی کرتا ہوا سال کو ختم کرتا ہے تو نئے سال میں داخل ہونے والا زید وہ زید نہیں ہوتا جو پچھلے سال میں داخل ہوا تھا بدل چکا ہوتا ہے اپنی تربیت میں اپنے اخلاص میں اپنی قربانیوں کے نتیجہ میں وہ ایک اور ہی انسان ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ دیا کہ اگر تم اور نیک انسان بنو گے اور زیادہ اخلاص رکھنے والے انسان بنو گے اور زیادہ مجھ سے محبت کرنے والے انسان بنو گے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور زیادہ فدائی بنو گے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اور زیادہ پیار کرنے والے بنو گے تو میں الا بالحق یعنی میں ایک نئی شان کے ساتھ تم پر جلوہ گر ہوں گا اور تمہاری بدلی ہوئی نیک حالت کے مطابق بدلے ہوئے سامان پہلے سے بہتر محبت کا اظہار میں تم سے کرنے والا ہوں گا ایک نئے دور میں تم داخل ہو گے وہ دور تمہارے لئے بہتر ہوگا۔( خطبات ناصر جلد سوم صفحہ ۹)