انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 255 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 255

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۵۵ سورة التوبة کے رب نے انہیں پیدا کیا اُس غرض کو پورا کرنے کی تعلیم دی اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے انہیں ضیاع سے بچایا اور تکلیف اور دکھ سے بچایا لیکن انسانی ضرورتوں کو پورا کرنے کی اجازت دی۔اور آپ انسانوں کے لئے بھی رحمت ہیں جیسا کہ فرمایا عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ اس پر سخت گراں گذرتا ہے کہ انسان کو تکلیف پہنچے۔اسلامی تعلیم نے ہر انسان کو خواہ وہ بت پرست ہی کیوں نہ ہو تکلیف سے بچانے کی ہدایت دی ہے اور یہاں تک کہا ہے کہ لَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ (الانعام: ۱۰۹) کہ جولوگ خدا کے شریک بناتے ہیں ان کے شرکاء کو بھی ( باوجود اس کے کہ شرک سب سے بڑا گناہ ہے ) گالیاں مت دو کیونکہ اس طرح بت پرستوں کے جذبات کو ٹھیس لگے گی اور انہیں تکلیف پہنچے گی۔بت میں تو کوئی جذبہ نہیں ہے کہ اگر اسے گالی دی جائے تو اسے تکلیف پہنچے۔انسان کو تکلیف سے بچانے کے لئے ، کافرکو اور مشرک کو تکلیف سے بچانے کے لئے گالی دینے سے منع کیا۔حالانکہ شرک ایک انتہائی گناہ ہے اور اس کے متعلق اعلان کیا گیا کہ یہ سب سے بڑا گناہ ہے لیکن خدا کہتا ہے کہ شرک کے گناہگار کو بھی اس دنیا میں عذاب دینا یا آخرت میں جہنم میں پھینکنا میرا کام ہے۔تمہیں یہی ہدایت ہے کہ تم نے کسی کو تکلیف نہیں پہنچانی کیونکہ تم اس عظیم انسان کی طرف منسوب ہوتے ہو جو رحمة للعلمین بنا کر دنیا کی طرف بھیجا گیا۔اور فرمایا کہ وہ عظیم انسان جیسا کہ انسانوں میں سے غیر مومنوں کے لئے مشفق اور ہمدرد ہے وہ مومنوں کے لئے مشفق اور ہمدرد ہونے کے علاوہ ان سے محبت اور پیار کرنے والا اور ان پر کرم کرنے والا ہے یعنی جہاں تک مومن کا سوال ہے وہ خدا تعالیٰ کی صفت رحیمیت کا مظہر ہے اور جہاں تک انسانوں میں سے کافر کا سوال ہے، اہلِ کفر کا سوال ہے خواہ وہ مشرک ہی کیوں نہ ہوں یا عملاً اسلام سے باہر ہوں اور فاسق فاجر ہوں ان کے لئے وہ خدا تعالیٰ کی صفت رحمانیت کا مظہر کامل ہے۔آپ نے ان کی ہدایت کے لئے کوشش کی۔ان کے لئے تڑپے ان کے لئے دعائیں کیں اور ان کے لئے بخع کی حالت پیدا ہوگئی۔یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کو کہنا پڑا کہ تو ان کی خاطر اپنی جان کو ہلاک کر دے گا۔آپ نے ان سے دشمنی نہیں کی اور ہمیں بھی ان سے دشمنی کرنے سے منع کیا اور ان سے شفقت اور ہمدردی اور خدمت کا سلوک کرنے کی تعلیم دی۔یہ ہمدردی یہ شفقت اور یہ خدمت کی تعلیم مومن کے لئے بھی ہے اور کافر کے لئے بھی لیکن مومن کے لئے اس کے علاوہ اور اس سے بڑھ کر محبت