انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 18
۱۸ سورة المائدة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث حیات طیبہ تمہیں ملے جو ابدی فیوض کی حامل اور خدا تعالیٰ سے نئے سے نئے اور زیادہ سے زیادہ فیض اور برکتیں اور رحمتیں حاصل کرنے والی ہو اور یہ ایک ایسی زندگی ہے جس کا تصور بھی ہم یہاں اس دنیا میں نہیں کر سکتے۔جہاں تک غنا اور احتیاج کا سوال ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو چاہو گے تمہیں مل جائے گا اس سے زیادہ اور کیا غنا ہوسکتی ہے عزت کی ایک نگاہ بھی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے کسی بندہ پر پڑے وہ بھی بڑی ہے لیکن جس زندگی کے متعلق یہ وعدہ ہو کہ اس کے ہرلمحہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا کی نگاہیں ایک عاجز انسان پر پڑتی رہیں گی اس سے بڑھ کر اور کیا عزت ہوگی پھر علم اور علم کی زیادتی کا یہ حال کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم کے متعلق ھدی للمتقین فرماتا ہے یعنی مومن ہدایت کے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے کچھ مقامات حاصل کرتا ہے تو کچھ اور نئی راہیں اس پر کھول دی جاتی ہیں پھر وہ ایک نئے بلند تر مقام پر پہنچتا ہے تو قرب کی کچھ اور راہیں اس پر کھولی جاتی ہیں یہ ہدایت اور علم ایسا نہیں جس پر انسان ایک وقت میں احاطہ کر لے اور سیر ہو جائے اور پھر تشنگی کا احساس اس کے اندر پیدا نہ ہو بلکہ یہ وہ علم اور ہدایت ہے جو ہر لمحہ بڑھتا ہے وہ علم جو ہر لمحہ انسان کو خدا تعالیٰ سے قریب سے قریب تر لے جاتا ہے وہ علم ہے جس پر شیطان کی یلغار کا امکان ہی نہیں کیونکہ جنت کے دروازے شیطان پر بند ہو چکے ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس قسم کی ابدی حیات طیبہ کے حصول کے لئے تم ایمان لاتے ہو اور میری آواز پر لبیک کہتے ہو میں تمہیں بتاتا ہوں کہ اس اعلان ایمان کے نتیجہ میں تین قسم کی ذمہ داریاں تم پر عائد ہوتی ہیں اور تین تقاضے ہیں جو یہ ایمان انسان سے کرتا ہے۔پہلا تقاضا اس کا یہ ہے کہ اتقوا الله انسان ایمان سے قبل بہت سی بدیوں اور بد عادتوں اور بدرسوم اور شیطانی خیالات میں پھنسا ہوا ہوتا ہے۔ایمان کے ساتھ ہی اس کو یہ ساری بُرائیاں چھوڑنی پڑتی ہیں اور چھوڑنی چاہئیں اگر وہ ایمان میں سچا ہے تقویٰ کے معنی ہیں اپنے نفس کو گناہ اور معاصی اور نواہی کے ارتکاب سے انسان اس لئے بچائے کہ کہیں اس کا رب اس سے ناراض نہ ہو جائے پس جب ایمان حقیقی ہو اور اس کے ساتھ جیسا کہ چاہیے معرفت اور عرفان بھی ہو تو ایمان کا پہلا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ ساری بُرائیوں اور بدیوں اور بد رسوموں اور بد عادتوں اور بد خیالات اور بد خواہشوں اور گند سے