انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 17 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 17

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث سورة المائدة آیت ۳۶ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِى سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ جو مختصرسی آیت اس وقت میں نے تلاوت کی ہے اس میں نہایت حسین پیرایہ میں ایک نہایت ہی بنیادی اہمیت کا مضمون بیان ہوا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کی کتب اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے کی کوئی غرض ہوتی ہے انسان کسی مقصد کے پیش نظر دنیا سے منہ موڑتا اور دنیا والوں کی دشمنی خرید کر اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا اور یہ اعلان کرتا ہے کہ میں اپنے رب کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس کو جیسا کہ وہ چاہتا ہے اپنی ذات میں کامل اور اپنی صفات میں کامل سمجھے گا اور اس بات پر یقین کرنے کا اعلان کرتا ہوں اسی طرح وہ یہ اعلان کرتا ہے کہ میں اس کے رسول اور اس کی کتاب پر ایمان لایا ہوں اور جو پہلے رسول گزرے ہیں اور جو کتب نازل ہوئی ہیں ان پر بھی ایمان لایا ہوں اور ايمان بالله، ايمان بالرسل اور ایمان بالکتب کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ انسان فلاح دارین حاصل کرے اور اس زندگی میں بھی وہ خدا میں ہو کر با آرام زندگی پائے اور اخروی زندگی ( جو مرنے کے بعد انسان کو یقیناً ملنے والی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان سے وعدہ کیا ہے ) میں بھی وہ فلاح کو حاصل کرے۔فلاح کے معنی انتہائی کامیابی کے ہیں اور امام راغب نے اپنی کتاب مفردات میں لکھا ہے کہ اُخروی زندگی میں جو فلاح اور ابدی حیات طیبہ ایک مومن کو ملے گی وہ چار خصوصیات کی حامل ہو گی۔چار باتیں اس میں پائی جائیں گی اور وہ یہ ہیں۔(۱) ایک ایسی ابدی زندگی جس پر کبھی فنانہ آئے۔(۲) ایک ایسی تو نگری جس کے ساتھ کوئی احتیاج نہ رہے۔(۳) اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ایسی عزت کہ جس کے ساتھ شیطانی ذلّت کے اندھیرے کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے۔(۴) وَعِلْمٌ بِلا جَهْلِ اور وہ حقیقی علم جو جہالت کی تمام ظلمتیں اور اس کے اندھیروں کو دور کر دیتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اس غرض سے ایمان لائے ہو کہ ایک ابدی حیات تمہیں حاصل ہو وہ