انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 251
۲۵۱ سورة التوبة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث کو وہاں آ کر فتنہ کھڑا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔قرآن کریم کو کوئی نہ مانے تو اس کی مرضی مگر قرآن کریم نے فتنہ کا دروازہ بند کر دیا ہے قرآن کریم نے کہا کہ جس نے مسجد بنائی ہم اس کو مسجد ہی کہیں گے یعنی اگر کوئی گروہ ایسا ہے کہ خدا کی نگاہ میں بھی اس کی مسجد قابل قبول نہیں تو قرآن کریم نے اعلان کیا کہ تب بھی خدا اسے مسجد ہی کہے گا اور جو مجھ سے پیار کرنے والے ہیں وہ اسے مسجد ہی کہیں گے۔باقی اگر کسی کی نیت میں فتور ہے تو میں آپ ہی سمجھ لوں گا اس کے ساتھ۔تمہیں اس سے کوئی غرض نہیں ہے۔پس ایک تو یہ کہ مسجد بنانے والا اس کا متولی ہے۔یہ اعلان کیا ہے قرآن کریم نے۔قرآن عظیم بڑی عظیم کتاب ہے۔شرط یہ ہے کہ ہم اس کو اپنے لئے مشعل راہ بنا ئیں۔چنانچہ میں نے بتایا ہے کہ دس ہزار آدمی اب تک ہمارے ساتھ نماز پڑھ چکا ہے اور کوئی فتنہ نہیں کوئی فساد نہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد، مسجد نبوی ، دنیا کی مقدس ترین مساجد میں سے ایک ہے بلکہ کہنا چاہیے کہ سب سے زیادہ مقدس ہے وہاں آپ نے نجران کے یونیٹیرین (unitarian) یعنی موحد عیسائیوں کو کہا کہ عبادت کا وقت ہے یہیں کر لو۔یہ بھی ایک روایت ہے کہ بعض صحابہ نے وہاں نماز پڑھنے پر اعتراض کیا آپ نے فرمایا کہ تم کون ہوتے ہو اعتراض کرنے والے یہ یہیں پڑھیں گے، اپنی عبادت یہیں کریں گے۔آپ کی سنت نے سارے مسئلے حل کر دیئے ہیں۔خطابات ناصر جلد دوم صفحه ۱۸۴، ۱۸۵) آیت ۱۰۹ أَفَمَنْ اَسسَ بُنْيَانَهُ عَلَى تَقْوَى مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٍ خَيْرٌ ام منْ اَتَسَ بُنْيَانَهُ عَلَى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ وَ اللهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّلِمِينَ اس بات کا ذکر اللہ تعالیٰ نے خود قرآن کریم میں کیا ہے جہاں اُس نے آن الْمَسْجِدَ لِلہ کہہ کر اس فیصلے کا اعلان فرمایا ہے کہ مساجد ہمیشہ اللہ ہی کی ملکیت رہیں گی وہاں ساتھ ہی مساجد کے کسٹوڈینز اور ان کی ذمہ داریوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا اَفَمَنْ اَسسَ بُنْيَانَهُ عَلَى تَقْوَى مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٍ خَيْرُ اَم مَنْ اَسسَ بُنْيَانَهُ عَلَى شَفَا جُرُفٍ هَارِ فَانْهَارَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ وَاللَّهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الظلمين ترجمہ :۔کیا وہ شخص جو اپنی عمارت ( مراد مسجد) کی بنیاد اللہ کے تقویٰ اور رضامندی پر رکھتا